Thursday, December 15, 2016

16 December One Date Two Incidents: Are we ready to revisit?


  انکاری صورتحال سے نکلنے کا دن16 دسمبر... مگر
اگر ہم نے 16دسمبر1971سے سبق سیکھا ہوتا تو یقیناًہم 16دسمبر2014سے بچ جاتے 

Listen the report of MastFM103 about two incidents and one lesson...

آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہو یا 16 دسمبر 1971کا دن کہ ان دونوں میں ایک مماثلث ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتے 
ہیں کہ حقائق سے چشم پوشی کا نتیجہ نہ تو کبھی ماضی میں اچھا نکلا ہے نہ ہی آئندہ کبھی نکلے گا۔ ہمیں ہر صورت انکاری صورتحال سے آگے بڑھنا ہے۔ پاکستان کی رنگارنگی کو قبولنا اور مذہبی انتہا پسندیوں کو پالیسی سازی سے نکالنا ہی وہ عزم ہے جو اس دن کو زحمت سے رحمت میں بدل سکتا ہے۔ یہی ہے وہ ویثرن جس کی آج ہمیں ضرورت ہے۔جہوری تسلسل کے بغیر یہ دشت پاٹا نہ جائے گا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب یہ بیان تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا کہ میں خدا کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ یہ جس ’’ارادہ‘‘ کی بات کی جاتی ہے وہ کسی نہ کسی بیانیے ہی پر تشکیل پایا ہوتا ہے اور جب وہ بیانیہ ٹوٹتا ہے تو نئی راہیں کھلتیں ہیں۔ یہی عمل روشن خیالی و ترقی پسندی کی بنیاد ہے کہ صدیوں سے انسانوں نے جب جب پرانے بیانیوں کو چھوڑ کر نئے راستوں کو اپنایا ہے اس کو تاریخ میں سنہرے حروف سے یاد رکھا گیا ہے۔مگر یہ عمل تکلیف دہ اور کٹھن ہے کہ پرانے خیالات اور ان سے وابستہ ارادوں کو تج ڈالنا جوئے شیر لا نے سے بھی مشکل ہوتا ہے۔
16دسمبر کو دو واقعات ہوئے تھے، دونوں کا تعلق اس سر زمین پاکستان سے ہے اور دونوں میں ہمارے پرانے بیانیوں کے مہلک اثرات نمایاں کہ غور کرنے والوں کے لیے اشارے کافی ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ 16 دسمبر 1971 کا ہے جبکہ دوسرا واقعہ 16دسمبر 2014۔ ایک عبارت ہے لسانی، ثقافتی و قومیتی رنگانگی کے انکار اور صوبائی خود مختاری سے بیجا خوف سے جبکہ دوسرا عبارت ہے پالیسی سازیوں میں مذہبی و فرقہ وارانہ ترجیحات کو مقدم رکھنے سے۔ ایک کا کھرا مرکزیت پسندی کی طرف نکلتا ہے تو دوسرے کا کھرا مذہبی قوم پرستی کی طرف کہ اب اس پر دوبارہ سے غور کرنے کا وقت ہے۔
افتاد یا زحمت کادر آنا تو زندگی کا حصہ ہے کہ انفرادی و اجتماعی سطح پر افراد یا قوموں سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ اگر غلطیوں کی وجوہات کا نکھیڑا کر لیا جائے اور اپنی کو تاہیوں کو ہٹ دھرمی سے بچتے ہوئے تسلیم کرلیا جائے تو پھر نئے راستے کھلنے لگتے ہیں۔
بقول غالب مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں کہ اصل چیلنج تو زحمت کو رحمت میں بدلنا ہے۔ مگر جو سازش کے بیانیے کو ہی مقدم جانتے ہیں اور اپنی کو تاہیوں کا جواز خوارج کے عزائم میں ڈھونڈنے میں غلطاں رہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں اپنے گریبان میں جھانکنا قدرے مشکل امربن جاتا ہے۔ وطنی ریاستوں کی دنیا کی منطق اپنی کہ اس میں نہ تو کوئی کسی کا مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دشمن ۔ملکوں کے تعلقات تو مفادات کی سا نجھ یا لڑائی پر استوار ہوتے ہیں۔ یہ گاہک اور دکاندار جیسا رشتہ ہے جو لین دین پر چلتا ہے۔ اس میں سازشیں، محبت، خفیہ و کھلی جنگیں سب چلتاہے۔ نہ ہم اس سے مبّرا ہیں نہ کوئی اور ریاست۔ وطنی ریاستوں کی اس دنیا میں کھلی سازشیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اگر آپ نے زحمت کو رحمت میں بدلنا ہے تو آپ کو محض سازش کے بیانیے پر انحصار کو تج ڈالنا ہوگا۔ اقبال نے کہا تھا ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی‘‘۔ مگر جن بیانیوں سے ہم نے اس مٹی کو ’’نم‘‘ کی بجائے ’’سخت‘‘ (متشدد) کرڈالا ہے تو اس میں دھرتی کا تو کوئی قصور نہیں۔ 16 دسمبر کا دن اس لیے یادرکھنا چاہیے کہ سال میں ایک دفعہ ہم اپنے گذرے ہوئے کل پر نظر ڈالنے کے لیے خود کو بحثیت مجموعی بھی تیار کریں اور انفرادی سطح پر بھی اسرنو اچکتی نگاہ ڈالیں۔اگر ہم نے 16دسمبر1971سے سبق سیکھا ہوتا تو یقیناًہم 16دسمبر2014سے بچ جاتے۔ جب بھی کوئی انہونا واقعہ ہوتا ہے تو ہمارے ہاں مجموعی طور پر دو طرح کا ردعمل دیکھنے میں آتا ہے ۔ یا تو ہم سازش کابیانیہ بناتے ہیں یا پھر خود کو کوسنے ہی تک محدود رہتے ہیں۔ 16دسمبر کا دن اپنی خوبیوں اور خامیوں کا گراف بنانے سے مزین کرلیں تو پھر ایسی اعتدال پسند پالیسیوں سے ہم زحمت کو رحمت میں بدلنے کے قابل ہوجائیں گے۔ایک وقت تھا جب یہی مذہبی انتہاپسندی ہماری افغان و بھارت پالیسیوں کا جزولاینفک تھی۔ ہم پاکستان ہی نہیں بلکہ اسلامیان ہند کی بقاء کے لیے انہیں ضروری گردانتے تھے۔ فوجی تربیتوں سے نصابی کتب تک اس کا چلن عام تھا اور گذشتہ 5 دہائیوں میں اس کا رنگ ہر شعبہ زندگی پر گہرے نقوش ڈال چکا ہے۔ 9/11 کے بعد ہم اپنی دہری پالیسیوں کے تحت کبھی انہیں بچاتے رہے تو کبھی پھساتے رہے کہ بلا آخر 2014میں ضرب عضب ان کا مقدر ٹہرا اور پھر اگلے برس قومی ایکشن پلان منظور ہوا۔ اگر ہم پرانے بیانیے کو بدلنے پر تیار نہیں تو پھر ضرب عضبوں اور قومی ایکشن پلانوں کا فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ ریاستی پالیسیوں میں جب تک مذہبی و فرقہ وارانہ ترجیحات مقدم رہیں گی تب تک ہم پرانے بیانیے ہی میں مقید رہیں گے۔اس پرانے بیانیے کے انڈے بچے فوجی تربیت سے نصابی کتب تک پھیلے ہیں کہ 16 دسمبر کو اگر ہم پرانے بیانیے کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں بدلنے کا ارادہ کر لیں تو پھر یہ دن رحمت میں بدل جائے گا۔
16 دسمبر کا دن ہمیں ہر سال چڑاتا رہے گا کہ یہ شب تار کی علامت ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس شب گذیدہ سحر کو بدل سکتے ہیں۔ مگر اس کی اولین شرط یہی ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں پر نظر
ڈالنے کے لیے تیار ہوں۔

Monday, December 12, 2016

Where is Hamud ur Rahman Report? East Pakistan Crisis (Part 2)

Where is Hamud ur Rahman Report?

East Pakistan Crisis (Part 2)

In the first part http://www.dawnnews.tv/news/1047643/28nov2016-saqoot-e-dhaka-aur-henry-kissinger-ka-jhoota-sach-aamir-riaz-aa-bm I tried to deconstruct international politics of that time and it was also a response to twisted interview of Henry Kissinger while in current piece I tried to unfold its internal part. It is important to learn from history but it is painful too. 


Further readings



  

Saturday, December 10, 2016

10-December :Human or Humour Rights..Selective Human Rights is a denial

10-December :Human or Humour Rights

Selective Human Rights is a denial 

Double standards regarding Human Rights is counter productive for the spirit of International Human Rights Charter 1948. If H R is a weapon in foreign policy initiatives of powerful States or their agencies then it is hard to protect global human rights efforts. How we use H R issues during Cold war and in post Cold War is not an healthy example at all. The case of Libya is among the recent bad examples in this regard and President Obama rightly called it a ''Shit Show". Why numerous Human Rights organizations became part of that Shit Show is a multi million question. It is time to RETHINK for once.



Monday, December 5, 2016

Jogi-Sufi Traditions of the Punjab: A Radio Talk with Ishwar Dayal @ FM 103 Lhore


Jogi-Sufi Traditions of the Punjab

Listen A Radio Talk with Ishwar Dayal @ FM 103 Lhore recorded at December 5, 2016

Guest Ishwar Dayal Gaur, Punjab University Chandi Garh , Zubair Ahmad and Nain Sukh
Along with Afzal Saahir and Aamir Riaz

Author of "Forgotten Makers of Punjab", poet, historian, Ishwar is in Lhore these days and we invited him in our weekly regular radio show. First watch his video clips first









Thank you Sindh but PPP has to replicate same spirit in other provinces especially in the Punjab

Thank you Sindh

But PPP has to replicate same spirit

in other provinces especially in the Punjab

Aikta Day will help new & old, Muslim and Non Muslim Sindhis to unite and work for the province and the country but if PPP do not replicate in other 3 provinces it will push the party in narrow lanes. it is important to rethink about the policy especially regarding the Punjab ...read the piece published in the Wichaar. 


جداں ایاز لطیف پلیجو، فاروق ستار، رضا ربانی، شہلا رضا، شاہی سید، قادر مگسی اتے ہندو، مسیحی، نوے پرانے سب سندھی ایکتا دے مظاہرے کریندے نیں اتے ایس نال سندھ تے پاکستان دونوں تگڑے ہوندے نیں۔
ایہی اوہ دیہاڑ ہے جداں سندھ توں باہر بیٹھے سندھی وی آپ نوں سندھ دا حصّہ سمجھدے نیں اتے اند روالے سارے دھڑے وی اک دوجے نیڑے ہوندے نیں۔ اجہے دیہاڑ مناون نال فرقہ پرستیاں ہی نہیں سگوں شہری پینڈو(سندھی اْردو) جیہڑیاں خلاف بھر واں مورچہ لگدا ہے۔ 2009 توں ایہہ دن منانا شروع کیتا گیا سی ، شروع وچ کجھ جگادریاں مذاق وی اڈایا پر ایہہ ہن سندھ دی شناخت بن گیا ہے اتے ناقداں وی در وٹ لتا جے۔ پیپلز پارٹی ایس دی موڈھی ہے اتے کلچر ایس دا ڈومین ہیگا۔ جے اوہ ایہو کم دوجے صوبیاں وچ وی کرے اتے انہاں صوبیاں نوں وی آپس وچ جوڑن دی پالیسیاں بنائے تاں ایس گل دا فیدہ پی پی پی نوں ہوسکدا ہے۔چیتے رہوے پئی نو آبادیاتی حاکم اتے انہاں توں بعدوں ڈکٹیڑاں دھرمی ونڈاتے فرقو تے لسانی پاڑاں نوں ہمیش ودھایا سی۔ اوہ صوبیاں نوں لڑاندے تے صوبیاں اندر اختلافی گلاں نوں ودھاندے سن۔پر پی پی پی چاراں صوبیاں دی زنجیر جے اتے ایہہ سندھ وانگ تینوں صوبیاں وچ آپدی پالیسی نوں صوبیاں اندر سانجھ نال جوڑے، ایہو اس دا پلس پوائنٹ ہے۔ اہمیتاں ایس گل دیاں نیں پئی پی پی پی آپدی پھسڈی پنجاب پالیسی نوں چھڈے اتے بھٹو وانگ پنجابیاں دے دل وی جتن دا آہر کرے۔

Saturday, December 3, 2016

European Conflicts:Racist Rightest Nationalists (RRN) are ready to break EU?


European Conflicts

Racist Rightest Nationalists (RRN)

are ready to break EU?

Russians are making jokes of Europe because it itself invited them since Brexit. There is a history of quarreling European countries since ages. Now a days they are worried from immigrants and globalization but in past there were other issues. Main infighting is among Germany, France and Britain but it is a recorded fact that their infighting always proved counterproductive for Europe. 
Read the article by clicking HERE

 

Oct 7, 1958 in Pakistan and its analysis

اکتوبر7دا منحوس دن کیوں آیا؟ اسی کدوں تیک ویروے کریندے ہوئے شخصصیات اتے فوری ہوئے وقوعیاں بارے تبرّا کریندے رہواں گے۔۔۔۔عالمی تے مقامی حقیق...