Friday, April 10, 2015

More reviews of Madhulal Hussain, Punjabi Novel



Review Published in Daily Naw e Waqat Sunday April 12th 2015
http://sunmag.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/Lahore/2015-04-12/page-20





Another review of Madhulal Hussain

Punjabi Novel@ Weekly HumShehri


ثقلین شوکت۔۔۔۔۔
تاریخی ناول نگار کا کام کسی تنے ہوے رسے پر چلنے سے کم دشوار نہیں ہوتا۔ اسے تاریخی واقعات کی لڑی میں اپنے کرداروں کو اس طرح سمونا ہوتا ہے کہ قاری اس کے سحر سے نہ نکل سکے۔ اردو کے ممتاز نقاد اور فکشن نگار شمس الرحمن فاروقی نے اپنے طویل افسانوں اور ناول ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ میں یہ کام بڑی مہارت سے سر انجام دیا ہے۔ نین سکھ کا نیا پنجابی ناول ’’مادُھو لال حسین، لاہور دی ویل‘‘ بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔ نین سکھ نے تاریخ کے ان واقعات کو چنا ہے جن کی جانب ہماری نظر اب کم ہی جاتی ہے لیکن ہمارے معاشرے کی بناوٹ میں ان کا کردار کلیدی ہے۔ اس اعتبار سے نین سکھ کا ناول ایک کامیاب کوشش کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے تاریخی واقعات کی کھوج کے لیے بڑی محنت سے کام کیا ہے۔ ان کی یہ محنت ناول کے صفحات میں جا بجا نظر بھی آتی ہے۔
لاہوری سماج کا کون سا پہلو ہے جو اس ناول میں نظر نہیں آتا۔ رسم و رواج، لین دین، برتن، کھانے، لباس، اٹھنا بیٹھنا، شاعری، آمد و رفت کے ذرائع، پرانے محلوں کی آبادی، تھیٹر، فنون لطیفہ سے وابستہ لوگوں کا عروج و زوال غرض ہر شے کے بارے میں معلومات کا ایک ڈھیر ہے جو ناول کے صفحوں پر جا بجا نظر آتا ہے۔ دنیابھر میں لاہور کی جو مشہوری ہے اس کی وجہ جاننے کے لیے یہ ناول پڑھنا کافی ہے۔ لالہ جی لہوری، شجرہ منشی، دادا جی کی ڈائری ، یہ وہ نشتر ہیں جن کی مدد سے ناول نگار نے سماج میں اونچے استھان پر بیٹھے خانوادوں کی اصلیت کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ لاہور کی یہ سماجی تاریخ بڑی ہی تلخ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس شہر کے باسیوں نے کبھی گہری ’’گویڑ‘‘ کا تردد نہیں کیا، انہیں تو سطح پر موجود رنگوں سے ہی غرض ہے۔ یوں بھی ہر بڑا شہر اپنے باسیوں سے ان کے شجرے طلب نہیں کرتا اور لاہور تو اسی لیے عالم میں مشہور ہے کہ اس کی مہربان چھاؤں تلے ہر کسی نے کڑی دھوپ میں پناہ لی ہے۔
یہ ناول صرف تاریخ نہیں بلکہ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات اور معاصر صورت حال کا بیان اور ہمارے معاشرے میں پیدا ہوجانے والی فکری و سماجی پستی کی دلچسپ رپورتاژ بھی ہے۔ وہ شہر جس کی آغوش میں مادھواور لال حسین پروان چڑھے وہاں اب مذہبی شدت پسندی کا راج ہے۔ وہ لوگ جو پر امن بقائے باہمی کے اصول پر کاربند رہ کر دوسروں سے بزدلی کا طعنہ سنتے رہے انہیں اب اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مذہب کا استعمال، اور گھٹیا کاموں کے لیے اس کی آڑ اور اس کی وجوہات کی کھوج بھی اس ناول کا ایک خاص رُخ ہے۔ یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ سے ایسے تھے لیکن یہ بات مان لینے میں بھی کوئی خرج نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے بیج بڑے طویل عرصے سے موجود تھے۔ آج اگر مذہبی تنگ نظری فرینکنسٹائن بن کے ہماری درپے ہے تو اس میں ہمارا قصور دوسروں سے کم نہیں۔
معاشرتی اقدار کیسے بنتی اور بگڑتی ہیں، سیاست، مذہب اور سماج کے رَد کیے جا چکے طبقے اس میں کیسے اپنا حصہ بصورت خرابی ڈالتے ہیں، یہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں کہ آسانی سے سمجھ میں آسکے۔ ریاست کی مقتدر قوتیں جب فیصلہ کر لیں کہ انہیں اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی بھی قدم اٹھائیں گی تو نتیجہ وہی نکلے گا جس کا سامنا ہم آج کل کر رہے ہیں۔ اس ناول میں ہمیں جہاں اپنی سماجی تاریخ نظر آتی ہے وہیں سیاسی تاریخ کے بارے میں مصنف کے خیالات سے آگاہی بھی ملتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم واقعات اور ان پر کرداروں کی زبانی تبصروں سے مصنف کے سیاسی شعور اور سیاسی سمت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔
ناول میں سماجی و سیاسی تاریخ کے اس ڈھیر میں فکشن کہیں پیچھے چلا گیا ہے لیکن مصنف کے فکروں کی کاٹ بہت ہی شان دار ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کوئی جابر قسم کا طبیب ہے جو ہاتھ میں پکڑے نشتر کی کاٹ سے واقف نہیں۔ وہ چیر پھاڑ کیے جاتا ہے اسے اس بات کی پروا نہیں کہ مریض پر کیا گزر رہی ہے۔ یہ چیر پھاڑ اس لیے ضروری ہوتی ہے کہ معالج کو اندازہ ہے کہ اس کے بغیر مریض شفا یاب نہیں ہو سکتا۔ نین سکھ بھی ہمارے سماج کے ایسے ہی معالج ہیں جنہیں اندازہ ہے کہ ہماری خرابیاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ تیز دھار نشتر استعمال کیے بغیر علاج ممکن نہیں۔
پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں، ان کے کام کرنے کے انداز، ان کے لیے قربانیاں دینے والوں کے خواب اور ان خوابوں کی سوداگری سے ذاتی امارت قائم کرنے والے خواب فروشوں کے بارے بیان بھی عمدہ ہے۔ غریبوں کے نام پر کام کرتے ہوئے اپنا الو سیدھا کر لینے والوں میں صرف بڑے بڑے نام ہی شامل نہیں ہیں بلکہ کچی آبادیوں کے ’’بھٹی‘‘ بھی حصہ بقد جُثہ کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کی زبوں حالی کی جھلکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان بننے سے قبل کی یونینسٹ، مسلم لیگ، کانگریس اور سکھ سیاست بھی اس ناول کا حصہ ہے۔
نین سکھ کا یہ پہلا ناول ہے۔ اس سے پہلے ان کے افسانوں کے دو اور شاعری کا ایک مجموعہ سامنے آ چکا ہے۔ ان کی اس پہلی کاوش کو شاہ کار نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ ایک نہایت عمدہ کوشش ضرور کہلا سکتی ہے۔ ناول میں استعمال کی جانے والی زبان کے بارے میں شاید ’’پنجابی کے بڑوں‘‘کو اعتراض ہو کہ ناول کی زبان نہایت سادہ اور آسان فہم ہونے کے ساتھ ساتھ زندہ زبانوں کی مانند دوسری زبانوں سے استفادہ کرتی نظر آتی ہے۔ اگر یہ شعوری کوشش ہے تو مصنف داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے زبان کو جامد زبانوں کی مانند مشکل بنانے کی کوشش نہیں کی۔ مروجہ لہجے اور الفاظ کی بدولت ناول کی تفہیم نہایت آسان ہے۔ پنجابی سے معمولی شد بد رکھنے والوں کے لیے بھی اس ناول کا پڑھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مجموعی طور پر ناول کے مصنف اور عمدہ طباعت پر اس کے پبلشر دونوں ہی اپنی اس کاوش پر داد کے مستحق ہیں۔
مادھو لال حسین، لاہور دی ویل از نین سکھ
نیولائن پبلشرز، (تقسیم کار ریڈنگز، گلبرگ لاہور)،
صفحات 462؛قیمت 500روپیے
-

Previous Media coverage Links

http://punjabpunch.blogspot.com/2015/04/media-coverage-of-punjabi-novel.html



Monday, April 6, 2015

Media coverage of Punjabi Novel MadhuLal Hussain

Media coverage of Punjabi Novel

MadhuLal Hussain

Lhore Di Vail
written by Nain Sukh 
Published by Newline
Distributors Readings
Price 500rupees
www.readings.com.pk

Daily Jang

http://e.jang.com.pk/03-28-2015/lahore/pic.asp?picname=08_03.jpg


Daliy Dunya Newspaper

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2015-03-31&edition=LHR&id=1622307_82278595


FM 103 radio programe

http://punjabpunch.blogspot.com/2015/03/discussion-on-punjabi-novel-madhulal.html

Daily Khabrian newspaper Sunday magazine




Saturday, April 4, 2015

Tahira: The Lady with a difference

The Lady with difference

The lady with a difference and progressive by choice, Tahira mazhar Ali, 
After few years from partition of Punjab and unprecedented riots and migration a cricket match was organized in Lhore. Lot of people came from Bharat and Lhorites welcomed them in the city. Tahira recorded the even well and it was a proof that people at large were not involved in riots but it was a conspiracy of the masters as usual. Shop keepers did not take payments from indians of their sold items, people from India wanted to see their homes and new owners welcomed them happily. The story is itself enough to understand what Gora administration did during that time. read the piece and unlearn the myth of organized riots. we still need to de-construct it.
بہت سے لبرلوں و ترقی پسندوں کے برعکس وہ محض سیاسی سطح پر لبرل و ترقی پسند نہیں تھیں بلکہ اپنے سماجی رویوں میں بھی اپنے خیالات کو ملحوظ خاطر رکھتی تھیں۔ وہ برملا کہتی تھیں کہ مظہر اور میں نے اپنے بچوں پر کبھی اپنے نظریات نہیں ٹھونسے۔ ان کا یہ عمل بذات خود انہیں بہت سے” سکہ بند “ترقی پسندوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے فرزند طارق علی کو ان کے بعض تیز افکار کی وجہ سے بھٹو دور میں وطن آنے نہیں دیا تھا اور طاہرہ نے اس پر بروقت احتجاج بھی کیا تھا۔ مگر 5 جنوری 1979کو جب بھٹو ضیا الحق کی جیل میں اپنی آخری سالگرہ کا دن گذار رہے تھے تو انہیں طاہرہ کی طرف سے ”سگاروں“ کا تحفہ ملا۔ طاہرہ فوجی حکمرانوں اور منتخب جمہوری قیادت میں فرق کو خوب پہچانتی تھیں۔

ہفت روزہ ہم شہری
قلندر صفت طاہرہ

عامر ریاض
دنیا میں میں دو ہی چیزیں ہیں جن کی ہر جگہ پوجا ہوتی ہے کہ دولت اور حسن جس کے پاس ہو اسے خوش قسمت ترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ مگر کچھ ایسے بھی ہیں جن کے لیے ان دونوں کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے اور وہ ہر دم اپنے خیالات و افکار کو مقدم رکھتے ہیں۔ اپنے خیالات و افکار کا پہرہ دینے والوں میں بھی قابل تقلید مثال وہ ہوتے ہیں جو اپنے افکار کو کسی دوسرے حتیٰ کہ اپنے بچوں پر بھی مسلط نہیں کرتے۔ بس ایسے ہی قلندروں میں ایک نام طاہرہ مظہر علی کا بھی ہے۔
پنجاب کے پہلے وزیراعظم سرسکندر حیات کی بیٹی طاہرہ حیات جاذب نظر بھی تھیں اور دولت و عہدوں کی بھی گھر میں کمی نہ تھی۔ ان کے حسب نصب سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے بچے تو کیئریر اور عیش آرام کو ترجیح دیتے تھے مگر طاہرہ نے اپنے نام کی لاج رکھی ۔ نوجوانی میں کمیونسٹ پارٹی کا انتخاب کیا اور تاعمر ترقی پسند افکار کی اسیر رہیں۔عورتوں کے حقوق اور مادری زبانوں کی حمائیت ان کے ایجنڈے کے نمایاں پہلو تھے کہ طاقت کی غلام گردشوں سے گہری واقفیت کو انھوں نے سیاسی منفعت کے لیے استعمال نہ کیا۔
پنجاب سے کابل جانے والے رستہ پر اٹک اور فتح جنگ کے علاقوں کی اہمیت دیدنی ہے اور یہاں کھٹٹر طویل عرصہ سے مقیم ہیں۔جنوری 1925 میں طاہرہ کھٹٹروں ہی کے گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سرسکندر حیات غدر پارٹی سے یونینسٹ پارٹی آف دی پنجاب کا سفر کر چکے تھے کہ جس کا ذکر لندن مقیم افتخار ملک ان پر لکھی سوانح میں کر چکے ہیں۔ میاں فضل حسین اور سرچھوٹورام کی قربت نے سکندر حیات کو چارچاند لگا دیے تھے۔ طاہرہ”قانون اراضی ہند 1901 “میں پنجابی کسانوں کے حق میں کی جانے والی چھوٹو رام کی ترامیم کی تادیرمدح رہیں۔ وہ چھوٹے کا شتکاروں اور کسانوں میں کام کرتی رہیں اس لیے انہیں چھوٹورام کی خدمات سے بخوبی آگاہی تھی۔ہزارہ کے سرسبزمیدانوں میں لال  جھنڈوں کی قطاریں انہیں اچھی طرح یاد تھیں۔یہ یونینسٹ پارٹی آف پنجاب ہی تھی جس نے ایک طرف پنجاب میں کوآپریٹو کا باکمال بندوبست بنایا، بنیے(منی لینڈر) کے جبر سے پنجابی کسانوں کو نجات دلائی، کام کرنے کے اوقات کو آٹھ گھنٹے تک محدود کیا اور پنجاب کے دیہی سماج میں تواتر سے سکول کھولے۔ سکندر حیات کی وفات پر لکھے خط میں مشہور انقلابی مولانا عبید اللہ سندھی نے سر سکندر کے کاموں کو خوب سراہا تھا اور سندھ سرکار کو سکندر حیات کی تقلید کا مشورہ بھی دیا تھا۔ کراچی کے ابوسلمان شاہجہانپوری نے مولانا کے خطوط کے انتخاب پر مشتمل اپنی کتاب میں یہ خط چھاپا ہے جو ان دنوں یعنی 1942میں مولانا غلام رسول مہر کے مشہور اخبار ”انقلاب“ میں شائع ہوا تھا۔جہاندیدہ طاہرہ یونینسٹ پارٹی کے گھاٹوں اور خوبیوں سے آگاہ تھیں اور میاں افتخار الدین کی طرح روسی کمیونسٹ انقلاب کی تقلیدمیں محکوموں کو ان کا حق دلانے کے لیے بیتاب بھی۔
1942 میں انہوں نے پاکستان ٹائمز اور ویو پوائنٹ کے مشہور ایڈیٹر مظہرعلی خان سے شادی کا فیصلہ کیا جو ان دنوں آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے اور ان کے رشتہ دار بھی۔ مظہرعلی خان کے والدمظفرعلی خان اور بڑی بہن بلقیس شیخ بھی اپنے فیصلے خود کرنے میں ہی شہرت رکھتے تھے کہ یہ روائیت خاندان کی خصوصی پہچان ٹھہری اور کسی نہ کسی شکل میں تاحال جاری و ساری ہے۔ مظہر علی خان کو ترقی پسند خیالات بڑے بھائی محمودعلی سے ملے تھے ۔یہ وہی محمود علی تھے جن کی بیگم ستنام محمود پنجابی کی لکھاری تھیں۔ یوں شوہر سے ملاکمیونسٹ پارٹی سے قربت کا تحفہ جوان سال طاہرہ کی سرگرم عمل طبیعت کو بھایا۔ یہ وہ وقت تھا جب جولائی 1942 میںکمیونسٹ پارٹی سے تاج برطانیہ نے 17 سالہ پابندی ہٹا لی تھی۔ کیا حسین اتفاق تھا کہ جس سال طاہرہ پیدا ہوئی تھیں اسی سال کمیونسٹ پارٹی پر تاج برطانیہ نے پابندی لگائی تھی اور جب وہ بلوغت کو چھو رہی تھیں تو بین الاقوامی سیاست نے پلٹا کھایا اور پارٹی اور سلطنت میں قربتیں بڑھنے لگیں۔ 1942 کے وسط کے بعد پارٹی نے سامراجی جنگ کا نعرہ ختم کیا اور عوامی جنگ کے نعرے تلے ترقی پسند فوجی بھرتیوں کے اسیر ہوئے۔ فیض احمد فیض، چراغ حسن حسرت، ابواثر حفیظ جالندھری وغیرہ تو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (پبلسٹی کمیٹی)سے وابستہ ہوئے مگر ایسے بھی تھے جو جتھوں کی صورت میں برما ، مشرق وسطی جیسے محاذوں پرگئے۔مظہر علی خان بھی فوج میں بھرتی ہونے کے بعد مشرق وسطی ہی گئے تھے۔ کہتے ہیں سر سکندر نے شادی کو فوج میں بھرتی سے مشروط کیا تھا ۔ یہ بات کتنی سچ ہے اس بارے تو معلوم نہیں مگر سلطنت کے حامی اور کمیونسٹ اس وقت کا تذکرہ کرنے سے کتراتے ہیں جب کمیونسٹ اور سلطنت ”ایک صفحہ “ پر رہے۔1942کے وسط میںبرما محاذ پر گئے اک ایسے ہی گوریلے کمیونسٹ کی کتاب بھی چھپ چکی ہے جس کا ذکر کلکتہ کے کامریڈموہیت سین نے اپنی مشہور سوانح”Travels & the Road “ میں کیا ہے۔ پارٹی کے دفتر کھلے اور رسالے نکلنے لگے کہ جن کی ادارت سجاد ظہیر کے کاندھے پر پڑی۔ پنجاب سے نکلنے والا”جنگ آزادی“ بند ہوا اور دلی سے”عوامی جنگ“ نکل آیا۔ہٹلر اور جاپانیوں کو ہی نہیں بلکہ سبھاش چندر بوس جیسے انقلابی کوپرنٹ میڈیا کے ذریعے حدف تنقید بنانا ان رسالوں کی خصوصی پہچان تھی۔ 1943میں پارٹی نے پہلی کانگرس کی تو 18سالہ طاہرہ کو بھی پارٹی کی ممبر شپ مل گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب ادھیکاری تھیسس کے تحت پارٹی نے تحریک پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی۔ لاہور میں نوجوان طاہرہ پارٹی ہدایت پر اس قرارداد کو لے کر بائیسکل پر ممدوٹ ولاز، کو چل دیں جہاں قائداعظم ٹھہرے ہوئے تھے۔ محمد علی جناح، پنڈت جواہر لال نہرو وغیرہ کو تو وہ ذاتی طور پر جانتی تھیں کہ وہ وزیراعظم پنجاب کی دختر تھیں اور یہ سب ان کے مہمان بنتے تھے۔ زیرک جناح نے تاریخی جملہ بولا”کمیونسٹوں کو بھی ہوش آ ہی گیا“۔ویمن ڈیفنس لیگ سے انھوں نے خواتین میں کام شروع کیا کہ یہ جنگ کا زمانہ تھا۔ پاکستان بننے کے بعد پارٹی ہدایات ہی کے تحت 1950 میں وہ ان بانی اراکین میں شامل تھیں جنھوں نے ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن (DWA) بنائی۔ ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن میں کام کرنے والی طاہرہ مظہر علی بہت سے ترقی پسندوں کے برعکس خود کو ”ڈی کلاس“ کرنے کے خبط سے آزاد رہیں۔ پاکستان میں بدعنوانی کا ”کھرا “وہ بجا طور پر ہندوﺅں، سکھوں کی چھوڑی جائیدادوں پر قبضوں سے نکالتی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر بحالیات اور پہلی آئین ساز اسمبلی کے رکن میاں افتخار الدین نے تو وزیربنتے ہی یہ تجویز دے ڈالی تھی کہ ہندوئوں، سکھوں کی چھوڑی جائیدادوں کو قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ جاگیرداروں اور سیٹھوں پر بھاری ٹیکس لگائے جائیں اور مشرقی پنجاب و دیگر علاقوں سے آنے والے مہاجرین کے خاندانوں کو پیچھے چھوڑ آئی جائیدادوں کے مطابق زمینیں و جائیدادیں الاٹ کرنے کی بجائے گھرانوں کے افراد یا کنبہ کی تعداد کو مدنظر رکھ کر جائیدادیں دی جائیں۔ یوں جو جائیدادیں بچ جائیں انہیں نومولود پاکستانی ریاست اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لیے استعمال کرے۔ میاں صاحب نے برملا کہا کہ صاحب حیثیت لوگوں کو آج نئے وطن کی خاطر قربانی دینی چاہےیے۔ عبداللہ ملک نے میاں صاحب کے بیانات اور تقریروں کی جو کتاب مرتب کی اس میں یہ داستان محفوظ ہے۔ نومولود آزاد وطن کے لیے یہ ایک لاجواب اور بروقت تجویز تھی مگر میاں صاحب کی یہ تجویز لیاقت علی خان اور اس کے حواریوں بالخصوص کراچی مقیم آئی سی ایس افسران کو بوجوہ پسند نہ آئی۔ میاں صاحب کو اس تجویز کے بعد وطن دشمن ، کافر اور اسلام کا باغی تک کہاگیا کہ مقتدر گروہوں کی للچائی نظریں ہندو، سکھوں کی جائیدادوں پر تھیں اور یہی ان کا مال غنیمت تھا۔ آج کے پاکستان کے کتنے ہی معتبر خاندانوں کے کھاتے نکلوائے جائیں تو بدعنوانی کی داستان کا کھرا ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ اس معاملے پر تادم تحریرسب بوجوہ خاموش ہیں مگر طاہرہ کو کون خاموش کروا سکتا تھا؟۔
1947 کے فسادات اور تقسیم پنجاب پر افسردہ طاہرہ کا ماننا تھا کہ چند سال بعد جب ہندو، سکھ کرکٹ میچ دیکھنے لاہور آئے تو لاہوریوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دکانداروں نے ان سے خریدی گئی اشیاءکے دام نہ لیے، ہوٹل والوں نے بل نہ لیے اور بہت سوں نے اپنے چھوڑے گھروں کا وزٹ بھی کیا۔ الاٹیوں نے پرانے مالکوں کو بخوشی انکے گھر دکھائے تو کچھ مہمانوں نے اپنے پرانے سامان میں سے کچھ چیزیں مانگیں تو الاٹیوں نے انہیں بخوشی دے ڈالیں۔ ایک نوجوان ہندو نے اپنے پرانے گھر میں پڑے”بت“ کو مانگا کہ اس کے ماں کو اس بت کی یادستاتی تھی تو الاٹی نے اسے بخوشی یہ دے ڈالا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ چند سال بیشتر ہونے والے فسادات کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وگرنہ کرکٹ میچ دیکھنے آنے والوں کو لہوریے یوں ”جی آیاں نوں“ نہ کہتے۔ قیام پاکستان کا فسادات سے کوئی تعلق نہ تھا کہ یہ وہ سازش ہے جس کا کھرا” لندن “تک جاتا ہے۔
پران نیول کی طرح انہیں بھی لاہور سے عشق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقسیم سے قبل لاہور کی کشش کا ہند سندھ میں کوئی مقابلہ نہ تھا۔ لاہور کو برصغیر کا پیرس کہا جاتا تھا۔ یہاں کلب، باغات، ٹینس کورٹس، ناچ کے مقابلے پتہ نہیں کیا کیا ہوتا تھا۔” میں گارڈن ٹاﺅن سے بھاٹی دروازے اپنے کام پر روزانہ سائیکل پر آتی تھی اور رستہ میں کوئی مجھے چھیڑتا یا تنگ نہیں کرتا تھا“۔ یہی وجہ ہے وہ ”لہور لہور اے“ کی قائل رہیں۔
فوجی ڈکٹیٹروں کی حرکات و سکنات سے بخوبی واقف طاہرہ کا شمار ان چند ترقی پسندوں و لبرل رہنماﺅں میں ہوتا تھا جو مشرف کی ”روشن خیال جدیدیت“ سے بروقت آگاہ تھے۔ جب مشرف اور پرویز الٰہی وغیرہ نے جعلی روشن خیالی کے تحت ”میراتھن ریس“ کا چکر چلایا تو طاہرہ نے برملا اس کی مخالفت کی۔ وہ جدیدیت کی زبردست حامی تھیں مگر وہ جدیدیت کو معاشرے سے کٹا ہوا عمل نہیں سمجھتی تھی۔ دِکھاوے کا اسلام یا روشن خیالی سب بے فیض عمل رہتے ہیں اور طاہرہ ”پرویزیوں“ کے گھن چکر کو پہچانتی تھیں۔ بہت سے لبرلوں و ترقی پسندوں کے برعکس وہ محض سیاسی سطح پر لبرل و ترقی پسند نہیں تھیں بلکہ اپنے سماجی رویوں میں بھی اپنے خیالات کو ملحوظ خاطر رکھتی تھیں۔ وہ برملا کہتی تھیں کہ مظہر اور میں نے اپنے بچوں پر کبھی اپنے نظریات نہیں ٹھونسے۔ ان کا یہ عمل بذات خود انہیں بہت سے” سکہ بند “ترقی پسندوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے فرزند طارق علی کو ان کے بعض تیز افکار کی وجہ سے بھٹو دور میں وطن آنے نہیں دیا تھا اور طاہرہ نے اس پر بروقت احتجاج بھی کیا تھا۔ مگر 5 جنوری 1979کو جب بھٹو ضیا الحق کی جیل میں اپنی آخری سالگرہ کا دن گذار رہے تھے تو انہیں طاہرہ کی طرف سے ”سگاروں“ کا تحفہ ملا۔ طاہرہ فوجی حکمرانوں اور منتخب جمہوری قیادت میں فرق کو خوب پہچانتی تھیں۔
دادا امیرحیدر کی طرح وہ بائیں بازو کی ”فرقہ پرستیوں“ کا حصہ نہیں بنتی تھیں اور ترقی پسندی سے وابستہ ہر کام کی حوصلہ افزائی پر کمربستہ رہتیں۔ خود مجھے بطور ایڈیٹر” عوامی جمہوری فورم “انہوں نے ایک سے زیادہ بار فون کیے اور بائیں بازو کے رہنماﺅں کے انٹرویو چھاپنے پر مبارک بادیں دیں۔ دادا فیروزالدین منصور ، صفدرمیراور میجر اسحاق کی طرح وہ بھی پاکستانی مادری زبانوں کی زبردست حمایتی تھیں اور پنجابی زبان کو لاگو کرنے بارے واضح موقف رکھتی تھیں۔ احمد راہی کے پنجابی اشعار انہیں زبانی یاد تھے۔ عمر کے آخری حصہ میں انہوں نے برملا پاکستانی بائیں بازو کی ناکامیوں کا اعتراف کیا اور بتایا کہ ”جیہڑا واہوے اوہی کھاوے“ تو ہمارا نعرہ تھا مگر ہم بوجوہ اسے پھیلا نہ سکے.... لیفٹ میں جھگڑے بھی شروع ہوگئے تھے۔“
10 دسمبر 1942 کو جب ان کے والد سرسکندر حیات کا اچانک انتقال ہوا تو نوجوان طاہرہ پر یہ وقت بہت بھاری گذرا۔ بقول ان کے مظہرعلی خان کی موت ان کی زندگی کا دوسرا بڑا صدمہ تھا کہ اپنے دیرینہ یار کی موت کے بعد انہوں نے اپنے بچوں سے ایک سال تک اپنے آس پاس رہنے کی بنتی کی۔ ان کی اولاد میں مشہور لکھاری طارق علی نے علم و ادب میں خوب نام کمایا تو ان کی دختر توصیف حیات نے تعلیم کے میدان میں گھوڑے دوڑائے کہ باہمت طاہرہ نے برملا کہا کہ مجھے نہ تو کوئی پچھتاوا ہے نہ ہی شکایت۔بیماری کے آخری سالوں میں ان کی بیٹی توصیف حیات اسلام آباد سے لاہور شفٹ ہو چکی تھیں اور ماں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ”سنجن نگر“ کو وقت دے رہیں تھیں۔خاندان کے دیگر عزیز بھی ان کے ہمراہ تھے۔
18 سال کی عمر میں طاقت کی غلام گردشوں کو خیرباد کہنے والی طاہرہ تا عمر اپنی مست چال ڈھال پر مطمئن رہیں کہ اس اطمینان اور سکون قلب سے راہی ملک عدم ہونا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔
”محض حکومتوں کو الزام دینا کافی نہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خود آپ نے اپنی زندگی میں کیا کام کیا ہے؟ ۔۔۔ سرگرم عمل رہنا میری زندگی ہے نہ کہ پیشہ۔ “کیونکہ وہ اپنی زندگی خود جیتی تھیں، اپنے فیصلے خود کرتی تھیں اس لیے ان کے ماضی و حال میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ سکندر جناح معاہدوں کی کوکھ میں پلی تحریک پاکستان کا انہوں نے ساتھ دیا اور انہیں اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں تھی۔ البتہ انہیں یہ افسوس ضرور تھا کہ محمد علی جناح کے سیاسی وارثوں نے اپنے قائد سے انصاف نہیں کیا۔
90 برس کی عمر میں طویل بیماری کے بعد وہ انتقال کر گئیں مگر جب جب اس ملک میں ترقی پسندی، خواتین کے حقوق، کمیونسٹ تحریک ، فوجی آمروں کے خلاف جدوجہد اور پاکستان مادری زبانوں کی بات ہوگی تو طاہرہ کا نام اس فہرست میں 
نمایاں ہوگا۔


The link of the article published in weekly Humshehri
as some sentences are mising in weekly so above version is final file. The link is there
  JPG formate



Thursday, April 2, 2015

Clash of titans, Riddles of MQM and future of Karachi


Clash of titans, riddles of MQM

and future of Karachi

Will April 23 prove another May 12 for Karachi? Is a multi-billion question
Arrest of M anwar is another blow in continuous setbacks
Both PTI & MQM have no choice but to clash with each other.
Both parties worked under Musharaf and have “Show boys” in interior Sind
Urban chauvinism is common between both rival parties  
Both parties have history of U-Turns and Muk Mukkas
In past Karach was divided between Banori Town and Nine Zero and now Karchi will remain divided between Altaf and Imran.
Read the complete article

پنجاب کے تاریخی مقام پانی پت میں جب 1861 میں احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں میں گھمسان کا ’’یدھ‘‘ پڑا تھا تو جنوبی ایشیا کی دیسی طاقتوں میں اس لڑائی کا فائدہ ’’کمپنی بہادر ‘‘یعنی انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی نے اُٹھایا تھا۔ ضروری نہیں کہ متحارب قوتوں کی لڑائی میں ہر بار کسی ایک کا فائدہ اور دوسرے کو نقصان ہو، اکثر تیسری قوت کو اس ’’یدھ ‘‘سے دونوں کو اُکھاڑنے کا نادر موقع بھی مل جاتا ہے۔ کراچی کی موجودہ صورتحال کچھ ایسے ہی اشارے کر رہی ہے۔ - 

23 اپریل کو کراچی میں اک گھمسان کا ’’یدھ ‘‘پڑنے جا رہا ہے۔اگرچہ دونوں جماعتوں میں اس انتخاب کے سلسلے میں ایک ضابطۂ اخلاق بھی طے پا گیا ہے لیکن ان دونوں جماعتوں کا جو کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے اس ’’ضابطہ اخلاق‘‘ کا حشر پہلے سے ہی معلوم ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ انہیں وزارت عظمیٰ دلوانے میں نا کام قوتیں اب کم از کم کراچی میں انہیں ’’فتح‘‘ دلوا دیں گی۔ بس اسی زعم میں کراچی میں دوبار کیے گئے جلسوں میں ایم کیو ایم بارے خاموش رہنے والے خان صاحب نے’’ چپ کا روزہ ‘‘توڑ ہی ڈالا ہے۔ صولت مرزا اور انکی بیگم کے بیانات کے بعد جس طرح ’’مغلوب‘‘ میڈیا یکدم ایم کیو ایم، کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے تو خان صاحب بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے باز کب رہیں گے۔ مگر وہ یہ بات بھول رہے ہیں  کہ کراچی میں ایمکیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے علاوہ بھی بہت سی سیاسی قوتیں ہیں۔ ایم کیو ایم کی تطہیر کے بعد ان قوتوں کا کردار قدرے بڑھ جائے گا۔ اگر ایم کیو ایم سیاسی تنہائیوں کا شکار ہے تو عمران خان خود بھی دھرنوں کی ناکامی کے بعد زبردست سیاسی تنہائی کا شکار ہیں۔ ایم کیو ایم اگر کراچی والوں کو کچھ نہیں دے سکی تو خان صاحب نے خیبر پی کے میں کونسے تیر چلا لیے ہیں۔ متضاد شقّوں پر مشتمل خیبر پی کے کابلدیاتی قانون صوبہ میں پی ٹی آئی کی حاکمیت برقرار رکھنے کا وہی عزم لیے ہے جس کا اظہار ایم کیو ایم کراچی میں کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی اس دنگل میں بظاہر تماشائی ہے مگر اس کی نظریں برابر دونوں پر ٹکی ہیں۔ خدا کراچی کو نظر بد سے بچائے کہ 23 اپریل اس شہر پر بہت بھاری گزرے گا۔ ابھی تو کراچی والے 12 مئی 2007 کی خون آلود شام کو نہیں بھولے کہ اب 23 اپریل کسی انجانے وسوسے کی طرح دندنا رہا ہے۔ -  -

جس کسی نے بھی عمران و علوی کی ٹیپ سنی ہے وہ ان دونوں پارٹیوں کی نفرتوں اور قربتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان پارٹیوں میں تکرار اور ’’مک مکا ‘‘ہوتے وقت نہیں لگتا۔ ایک زمانہ میں امن عالم کے نعرے تلے روسی ٹینک چھوٹے ممالک میں جا گھستے تھے کہ اب کراچی کو پرامن بنانے کے لیے اس ’’یدھ ‘‘میں سے گزرنا مقدر ٹھہرا۔ پہلے کراچی ’’نائن زیرو‘‘ اور ’’بنوری ٹاؤن‘‘ میں منقسم تھا کہ اب اسے ’’عمران و الطاف‘‘ میں منقسم کیا جارہا ہے۔ کیا اس سے کراچی کی آگ بجھ سکے گی؟ یہ پالیسی میں تبدیلی نہیں بلکہ تسلسل کی علامت ہے۔ دیکھتے ہیں کہ 23 اپریل سے قبل صولت مرزا اور ان کی بیگم کی تقلید میں کتنے اعترافی بیانات آتے ہیں۔ اگر کہیں کراچی کے پرانے ناظم مصطفی کمال کو بھی دوبئی سے لایا گیا تو پھر بھاگتے چور کی لنگوٹی صرف بائیکاٹ ہی سے بچ سکے گی۔ دونوں طرف اہل زبان ہیں اس لیے زبان کے اچھے بُرے استعمال کا نظارہ تو چینلوں پر خوب رہے گا۔ چرب زبانی اور مغلظات کے ساتھ اشعار بھی سننے کو ملیں گے کہ اس کا ٹریلر جناح گراؤنڈ میں چلا یا گیا تھا۔ عمران اسماعیل اور عارف علوی کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے دعویدار ہیں کہ 1980ء کی دہائی میں یہی دعوےٰ الطاف حسین اور ان کی مہاجر قومی موومنٹ بھی لے کر آئی تھی مگر اس دعوےٰ کے بعد کراچی کا وہی حال ہوا جو روسی فوجوں اور مجاہدین کی لڑائی کے بعد افغانستان کا ہوا تھا۔ کراچی کا امن تو سب مل کر بحال کرسکتے ہیں کہ اس میں پیپلز پارٹی، اے این پی، مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہیں اور کراچی کی انتظامیہ بھی۔ کراچی کے حالات کو بدلنا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں کہ کراچی کے امن کی ضمانت ’’مفاہمت‘‘ میں پنہاں ہے۔ ایسی مفاہمت جو بھتہ خوروں، دہشت گردوں اور قبضہ گیروں کے خلاف ہو۔ خان صاحب کی منطق بھی نرالی ہے کہ بھتہ خوریا جرائم پیشہ ایم کیو ایم چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آئے گا تو وہ فوراً سے پیشتر ’’پاک‘‘ ہوجائے گا۔ کم از کم پنجاب، خیبر پی کے میں پی ٹی آئی کی قیادت کو دیکھ کر تو اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ حال ہی میں خان صاحب کشمیر کے اس چوہدری عبدالمجید کی فتح پر جشن منا رہے ہیں جس پر2014 کے ضمنی انتخابات میں زبردست دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے تھے۔ اس وقت چوہدری عبدالمجید پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیراعظم کشمیر تھے اور پی ٹی آئی کے اُمیدوار سردار محمد رشید اور خان صاحب ان پر دھاندلیوں کے ثبوت پیش کر رہے تھے اب وہ چوہدری صاحب ’’پاک‘‘ ہوگئے ہیں۔ اگر کراچی میں بھی خان صاحب نے یہی کرنا ہے تو پھریہ محض چہروں کی تبدیلی ہی ہوگی۔ مجرموں کو اپنی پارٹی سے (وقتی طور پر) نکلنے کا حکم دینے والے الطاف حسین یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ایم کیو ایم میں جرائم پیشہ افراد کی کمی نہیں تھی۔ اب انہیں چاہیے کہ کچھ جرائم پیشہ کارکنوں کو خود ہی پکڑ کر میڈیا کے سامنے رینجرز کے حوالے بھی کر دیں۔ این اے 246 کا الیکشن بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ایم کیو ایم کا ’’کفر‘‘ ٹوٹنے کا شور بلند ہو رہا ہے اور نتیجہ کچھ بھی نکلے یہ کام آج یا کل ہر صورت ہو کر رہے گا۔ یہ درست ہے کہ عمران خان کو کراچی میں ’’حب علی ‘‘سے زیادہ ’’بغض معاویہ‘‘میں مدد حاصل رہے گی کہ آج ایم کیو ایم کے پالیسی ساز اپنی ناکامی اور تنہائی پر ماتم کرنے کے قابل بھی نہیں۔ اگر انھوں نے 12 مئی اور مشرف کی بے دخلی سے سبق سیکھا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ یہ تو ایک ضمنی انتخاب ہے مگر ایم کیو ایم کی مشکلات 23 اپریل گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوں گی۔ اسی سال بلدیاتی انتخابات کا ’’رن‘‘ بھی پڑئے گا کہ وہاں تو معاملہ اور بھی ’’چوڑ ‘‘ہو جائے گا۔ 2013 کے انتخابات کے چند دن بعد جب میڈیا کے روبرو ایم کیو ایم کے ’’پاسداران انقلاب ‘‘نے اپنے ہی لیڈروں کو سرعام مارا تھا تب ہی دال میں کالا نظر آنے لگا تھا۔ اب صولت مرزا کی بیگم نے بھی یہی کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے بہت سے نوجوان کارکن اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ الطاف بھائی ایم کیو ایم کے لیڈروں کو ’’پاسداران‘‘ سے پٹوانے اور توپوں کا رُخ ’’پالتو مجرموں‘‘ کی طرف کرنے کی بجائے خود اعتراف گناہ کیوں نہیں کرلیتے؟ بصورت دیگر صولت مرزا تو بنتے ہی رہیں گے۔ بلدیہ فیکٹری مقدمہ میں جو بھی ملوث ہے اس بارے الطاف بھائی قوم کو صاف صاف بتا دیں۔ ایم کیو ایم مشرف دور میں کراچی ہی نہیں بلکہ سارے سندھ میں سیاہ سفید کی مالک تھی۔ اس دوران صولت مرزا کے مقدمہ کو کیوں لٹکایا جاتا رہا؟ ایم کیو ایم کے پاس تو ڈوگر کو رٹ بھی تھی مگر پھر بھی صولت کو اندر ہی رکھا گیا۔ نکہت مرزا نے نام لیے بغیر ان لوگوں کی طرف بھی اشارہ کیا جن کا کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ایم ڈی سے جھگڑا ہوا تھا۔ کیا صولت مرزا کو تختہ دار پر لٹکا کر کچھ ’’معززین شہر‘‘کو بچایا جا رہا ہے؟اس بارے تو میڈیا بھی خاموش ہے۔ 23 اپریل کے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کے تقاخر کے ٹوٹنے پر تو سب راضی ہیں مگر کراچی کو عمران خان کے حوالے کرنے پر اختلافات نمایاں ہیں۔ مگر یہ اختلافات 23 اپریل سے پہلے اُبھر کر سامنے نہیں آئیں گے۔ تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے حسب معمول 23 اپریل کا نتیجہ پہلے ہی سے بتا دیا ہے اور اسے پی ٹی آئی کی ’’تاریخی فتح‘‘ قرار دے ڈالا ہے۔ وہ ایسے دعوے کرنے میں ید طولیٰ رکھتی ہیں۔ ایک زمانہ میں وہ پیپلز پارٹی کو نیست نابود کرنے کے دعوے کرتی تھیں۔ اس کام کے لیے انھوں نے بہت ’’پاپڑ بیلے‘‘۔ ان کی ساری توانائیاں پیپلز پارٹی کو نکرے لگانے میں صرف ہوئیں تھیں۔ مگر جب 2006 میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو میں میثاق جمہوریت تلے قربتیں بڑھنے لگیں تو انھوں نے پی ٹی آئی میں پناہ ڈھونڈی۔ اب تو میاں نواز شریف ان کے نزدیک پیپلز پارٹی سے بڑی عفریت ہیں۔ اب وہ عمران خان سے توقعات لگائے بیٹھی ہیں۔ ان کا دعوےٰ ہے کہ قوم ایم کیو ایم سے ٹکرانے کو تیار ہے۔ مگر انہیں شاید احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں میں ہونے والی پانی پتی جنگ کا نتیجہ یاد نہیں۔ ایک زمانے میں کانگریس یہ کہتی تھی کہ برٹش انڈیا میں دو ہی قوتیں ہیں، ایک انگریز اور دوسری آل انڈیا کانگریس۔ اسی زعم میں کانگرسیوں نے نہ صرف اکتوبر 1939 میں وزارتوں سے استعفے دے ڈالے تھے بلکہ 1942 میں ’’انڈیا چھوڑ دو‘‘ جیسی ناکام تحریک بھی چلائی تھی۔ اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں مسلم لیگ اُبھر آئی تھی۔ سندھ میں سب سے بڑی سیاسی حقیقت پیپلز پارٹی ہے اور اگر وہ اپنے کارڈز ’’سینے‘‘سے لگائے رکھے تو اس معرکہ سے وہ سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو سندھ کے اُردو بولنے والوں، پنجابیوں، پٹھانوں، سندھیوں اور بلوچوں میں تصفیہ کروا سکتی ہے۔ 1980ء کی دہائی سے سندھ جس آگ میں مسلسل جل رہا ہے اسے تیل سے بجھانے کا مطلب یہی ہے کہ آگ مزید جلتی رہے۔ کراچی میں رہنے والوں سے زیادہ اور کون اس آگ کی تپش سے واقف ہے؟ کبھی اس شہر کو لسانیت کے حوالہ کر دیا جاتا ہے تو کبھی فرقہ واریت کا جن اس شہر کو بے رنگ کرنے کے لیے در آتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی تو کراچی میں ایم کیو ایم کی وجہ سے ماردھاڑ کی سیاست میں ملوث ہوئے تھے کہ جب ایم کیو ایم کے عسکریت پسند گر جائیں گے تو اس کے ملبے تلے بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں ملوث تمام لوگ بھی دفن ہوجائیں گے۔ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق کراچی میں اُردو بولنے والے 50 فی صد سے بھی کم ہوچکے ہیں۔ اب اگر کراچی میں امن قائم کرنا ہے تو پھر سب کو ملا کر چلنے کی بات کرنے والوں کو ایک موقعہ دینا ہوگا۔ ایم کیو ایم کی طرح عمران خان بھی کراچی تک محدود ہیں کہ کراچی کا امن ان کی ’’تاریخی کامیابی ‘‘کے بعد بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ کراچی کا امن سندھ کے چین سے مشروط ہے اور یہ بات نہ تو کراچی کے پرانے پہلوانوں کو سمجھ آئی تھی اور نہ ہی نئے پہلوان اس بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ کراچی کی اس بدل چکی سیاست ہی کی دین ہے کہ آج کراچی کے رضاربانی چیئرمین سینیٹ اور ممنون حسین صدر مملکت ہیں۔ یہ معرکہ ایم کیو ایم تو سر نہ کرسکتی تھی۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کے پاس ’’شو بوائے ‘‘ نہیں بلکہ رضا ربانی، شہلا رضا، سعید غنی جیسے لیڈر ہیں جبکہ اندرون سندھ میں ایم کیو ایم اور عمران خان تو بس ’’شوبوائے‘‘ ہی رکھتے ہیں۔ کراچی کے لوگ اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں تو ہر حال میں اسی شہر میں رہنا ہے جو ان کا مسکن بھی ہے اور سندھ کا سب سے اہم شہر بھی۔ سوال ایم کیو ایم کے گرنے کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ ایم کیو ایم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا ہے کہ جس کا کچھ نظارہ 23 اپریل کو سب دیکھیں گے۔ - 

Saturday, March 28, 2015

29th March: A Day when Britain annexed The Punjab 166 years back and jeopardized the whole region

29th March

A Day when Britain annexed The Punjab

166 years back and jeopardized

the whole region

Pentapotamia, an ancient Greek name of Punjab or Punjnad was centre of excellence in the whole region since centuries.  It had short-cut branches of Silk route, fertile lands, forests and home of ancient Pre-harappan settlements.  Before 9th century it was home of peace loving Buddhists and after 10th century it was remembered as land of Yogis, Sufis and traders.  Due to trade it was linked with South Asia, West Asia, Central Asia and China.  From 1799 till 1849 it enjoyed an independent monarchy and was prepared to enter in the world of Nation States due to its institutions. It was a time when Afghanistan, Qallat and Sind were also following it. Many travellers like German descent Brian Hugel recorded presence of trade centers not only in the Punjab ( Lhore, Moltan, Khewra, Sialkot) but also in Sind Baluchistan border( Shikarpur), KyberPK (Peshawar, D I Khan) and Kashmir (Seri-nagar, Jammu). G W litner wrote about three commercial Punjabi scripts in the whole region known as Sarafa, Mahajni and Landay in his famous report published in the form of book under the title “ History if indigenous education of the Punjab” which showed business activity in pre British period.  There was a decentralize State in pre British times yet colonial masters imposed an over centralized state structure and played with languages, religions, sub religions, cultures which jeopardized the region. From trade centre it became a garrison state. It is high time that we should revisit our history for once and the day of 29 March provides this opportunity to us. Read the piece I wrote for weekly Humshehri at this special day. Thanks رب راکھا

The article link is 

دنیا بھر میں پھیلے 20 کروڑ سے زیادہ پنجابیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ جنوبی ایشیائی باشندوں کے لیے 29 مارچ کا دن بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کی آخری دیسی ریاست کو گورے حکمرانوں نے سر نگوں کیا۔وہ دیسی ریاست جس کا نام ’’لہور دربار‘‘ تھا اور جو پورے 50 برس کشمیر سے فاٹاتک برقرار رہی۔ اس ریاست کا ساتھ دینے والوں میں پنجابی، پٹھان مسلمان بھی تھے، جٹ، راجپوت، ارائیں اور گجر بھی، پوربیوں کی بٹالین بھی اور یورپی و امریکی فوجی بھی۔ مگر انگریزوں اور ان کے ہمنوا لکھاریوں نے یہی جھوٹ پھیلایا کہ لہور دربار کی حکومت تو سکھوں کی بادشاہی تھی۔ ہشیار انگریز دانشوروں نے سکھ مسلم اور پنجابی، غیر پنجابی تضاد کو خوب استعمال کیا اور اس کے تحت مطلبی تاریخ لکھوائی۔ اس مطلبی تاریخ کو کون آگے بڑھا رہا ہے ؟یہ اپنی جگہ عجب داستان الم ہے۔ افغانستان کے دوست محمد خان کا بھائی سلطان محمد تو آخر تک لہور دربار کا سجن رہا جبکہ باجوڑ، خیبر اور دیر کے خان لہور دربار کے ساتھ رہے۔ ایک مہم میں قصور کے خان مہاراجہ کے ساتھ لڑے مگر بعد میں وہ تادیر مہاراجہ کے ہمرکاب رہے۔ کشمیر کی مہم میں تو یہ خان صاحب مہاراجہ کی طرف سے بڑی بے جگری سے لڑے۔لاہور کے فقیر خاندان بارے تو ہم سب جانتے ہی ہیں مگر امرتسر کے میں غوثا، ملتان کے سانول مل اور مول راج ہوں یا کشمیر کے شیخ برادران یہ سب لہور دربار کے ساتھ مل کر انگریزوں سے برسرپیکار رہے۔نور خان کا ذکر تو محمد شاہ کی مشہور رزمیہ ’’جنگ ہند پنجاب‘‘ میں محفوظ ہے جو پنجاب پر قبضہ کے بعد لکھی گئی۔ مگر ہمیں یہی سبق پڑھایا گیا کہ لہور دربار تو سکھوں کی بادشاہی تھی۔ - 

شاہ شجاع سمیت احمد شاہ ابدالی کے تینوں پوتوں کو پناہ و جاگیریں دینے والے لہور دربار کو گرانے کے لیے انگریزوں کو تین خوفناک جنگوں سے گزرنا پڑا۔ گجرات کے قریب چیلیانوالہ کے مقام پر جو خوفناک لڑائی ہوئی اس میں پنجابیوں کے ہمراہ دوست محمد خان کا بیٹا بھی انگریزوں کے مخالف لڑا۔ اس جنگ کی بڑی یادگار چیلیانوالہ کا ’’گورا قبرستان ‘‘ہے۔ فیصل آباد کے میجر معین باری نے چلیانوالہ پر باکمال کتاب چھاپ رکھی ہے۔ ان جنگوں میں حصہ لینے والے کپتان کنگھم نے جب کتاب میں اعتراف کیا کہ یہ جنگیں سازشوں سے جیتیں گئی تھیں تو انگریزوں نے اس کتاب پر پابندی لگا دی تھی۔ مگر ہمارے بچوں کو یہ تاریخ نہیں پڑھائی جاتی۔ انگریز دانشوروں نے مسلمانوں کو ’’سکھا شاہی‘‘ اور سکھوں کو ’’مسلم حملہ آوروں‘‘ کی اصطلاحیں دیں تاکہ یہ آپس میں دست و گریباں ہی رہیں۔ لہور دربار کی 90 فی صد آبادی تو ان دونوں مذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل تھی کہ ان میں اختلافات ایجنڈے کا خصوصی حصہ رہا۔ مسلم اور سکھ بنیاد پرست و انتہاپسند گروہ آج بھی اُسی انگریز پالیسی کے اسیر ہیں۔ 27 جون 1839 وہ دن تھا جب 1799 سے برسراقتدار گوجرانوالہ کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا انتقال ہوگیا۔ ایک سال کے بعد قلات(بلوچستان)، چار سال کے بعد سندھ، سات سال کے بعد کشمیر اور 10 سال کے بعد پنجاب بشمول فاٹا پر انگریز کا قبضہ ہوگیا۔ پرنسپ، دیبی پرشاد، برائن ہیوگل، سٹین بیچ، گاڈنر، کپتان کنگھم، گنیش داس، شہامت علی سمیت لاتعداد لکھاریوں نے 1850 تک لہوردربار بارے بہت سی کتب لکھیں۔ ان کتب کو پڑھنے سے ہمیں انگریزوں سے پہلے کے سیاسی، سماجی حالات بارے جاننے میں مدد ملتی ہے۔ اس دور میں ہمارے خطوں میں سب سے بڑی زبان فارسی تھی اور فارسی کا ہمارے خطہ کی مادری زبانوں سے گہرا رشتہ بھی تھا۔ خدا بھلا کرے اگروال صاحب کا جن کی وجہ سے گنیش داس کی فارسی میں لہور دربار پر لکھی کتاب ’’چار باغ پنجاب‘‘ پنجابی و انگریزی میں ترجمہ ہوگئی۔ مقصود ثاقب نے اسے شاہ مکھی میں بھی چھاپ کر لاہور کی لاج رکھ لی ۔ مگر تاحال ہمارے خطہ بارے کتنی ہی فارسی کتب ترجمہ نہیں کروائی گئیں۔ لہور دربار پر قبضہ کے بعد انگریزوں نے مرحلہ وار انداز میں فارسی کو ختم کرنے کی مہم شروع کی۔ 1865 کے بعد پنجاب بشمول پشاور، کشمیر اور قلات میں اُردو کا نفاذ فارسی کو ختم کرنے کی مہم کا خاص حصہ تھا۔ اس تاریخ کو ہمارے ہاں جان بوجھ کر چھپایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کی گذشتہ ہزار سال کی تاریخ فارسی اور ترکی زبانوں ہی میں محفوظ ہے۔ 29 مارچ کادن اس لیے اہم ہے کہ یہ ہمیں اپنی تاریخ کو جاننے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مثال بادشاہی مسجد کے میناروں کے شہید ہونے کی ہے جو 1839 کے زلزلے کے بعد اپنی اصلی حالت میں نہیں رہے تھے۔ اس زمانے میں آنے والے زلزلوں کے ریکارڈ کے حوالہ جات زلزلوں کے حوالوں سے موجود بین الاقوامی ویب سائٹ پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ 1873 کا گیزیٹر بھی 1839 میں بادشاہی مسجد کے میناروں کے زلزلہ کے بعد شہید ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ مگر بہت سے لکھاریوں نے میناروں کے شہید ہونے کا الزام سکھوں پر دھردیا۔ یہ لکھا گیا کہ راجہ جموں گلاب سنگھ کے سپاہی توپیں لے کر شاہی مسجد کے میناروں پر چڑھ گئے تاکہ شاہی قلعہ کے اندر گولے برسا سکیں۔ آپ میں سے جس نے بھی بادشاہی مسجد کے میناروں کی سیڑھیاں دیکھی ہیں وہ با آسانی اس جھوٹ کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان تنگ سیڑھیوں میں سے تو پیں لے جانا تو دور کی بات، وہاں سے تو دو انسان اکٹھے بھی نہیں جاسکتے۔ اگر توپیں ہی لے جائی گئیں تھیں تو پھر مسجد کے پچھلے مینار گرانے کی تو ضرورت نہ تھی کیونکہ وہ تو قلعہ کی طرف نہیں تھے۔ اسی طرح 1827 کے زلزلے میں لاہور کی بہت سی تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ زلزلوں سے ہوئے ان نقصانات کو بھی سکھوں کے کھاتے ڈال دیا گیا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ لہور دربار کی حکومت میں مسلمانوں کا تناسب 70 فی صد سے بھی زیادہ تھا۔ اگر مہاراجہ مسلمانوں کا دشمن ہوتا تو اس کی حکومت 3 سال بھی نہ چل سکتی۔ اسی طرح سکھوں کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لیے احمد شاہ ابدالی کے حملوں اور میر منو کے دَور کے واقعات کو مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی اور میر منو تو مسلمانوں اور پٹھانوں کے ساتھ بھی لڑتے رہے تھے مگر سکھوں کو یہ باتیں نہ بتائی گئیں۔یہ سب جیمس مل کی تقلید تھی۔ جو سکول سسٹم ہمارے خطوں میں انگریزوں نے بنایا اس میں مادری زبانوں یعنی پشتو، بلوچی، براہوی اور پنجابی کو دیس نکالا دیاگیا تھا تو دوسری طرف ان کی تیار کردہ نصابی کتب میں صوفیا اور بھگتوں کی تعلیمات شامل ہی نہ تھیں۔ 1854 کے ووڈزڈسپیچ (Woods Despatch)سے لے کر جی ڈبلیو لائیٹنر کی 1882 کی تعلیمی رپورٹ تک بہت سے انگریز تھے جنھوں نے ان اقدامات کی مخالفت کی۔ اس تعلیمی بندوبست کی خوبیوں اور گھاٹوں پر ہم نے تاحال کچھ کام نہیں کیا اور اس کا الزام انگریزوں پر قطعاً نہیں ڈالا جا سکتا۔ لائیٹنر نے تو اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’پنجاب میں دیسی تعلیم‘‘ میں نہ صرف پنجابی زبان کے چھ رسم الخطوں کا ذکر کیا ہے بلکہ پنجابی، فارسی سلسلوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ مگر برٹش انتظامیہ نے بوجوہ ان باتوں کو ضروری نہ گردانا۔ دیکھا جائے تو فارسی نے اس خطہ کو جوڑا ہوا تھا جو ایک طرف وسط ایشیائی و ایران تک جاتا تھا تو دوسری طرف کشمیر تک مگر اس جڑت کو توڑنا نو آبادیاتی مفادات کا بڑا مقصد ٹھہرا۔ یہ سب تو گورے حکمرانوں کے کارنامے تھے مگر ہم نے 68 سالوں میں اسی سلسلہ کو کیوں جاری رکھا؟ یہ ہے وہ سوال جس کو آج ہم نے دوبارہ سے دیکھنا ہے۔ 29مارچ کا دن اس کھوج کی طرف رخ کرنے ہی سے عبارت ہے۔ - 

مذہبوں، فرقوں، زبانوں اور رسم الخطوں سے خوب کھیلا گیا۔ لہور دربار میں مسلمانوں کے بعد عددی اعتبار سے دوسرا بڑا مذہبی گروہ سکھ تھے۔ انگریزوں نے پہلے کشمیر کو لہور دربار سے الگ کیا اور 1850 کی دہائی کے اولین سالوں میں ستلج پار سے دلی تک کا علاقہ پنجاب میں شامل کردیا۔ اب پنجاب میں دوسرا بڑا مذہبی گروہ سکھوں کی بجائے ہندو بن گئے۔ سکھوں کو تو تادیر اس کی سمجھ ہی نہ آئی۔1941کی مردم شماری کے مطابق بھی پنجاب میں ہندو 22فی صد جبکہ سکھ 15فیصد تھے۔ ان اعدادو شمار سے اکھاڑ بچھاڑ کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ 29 مارچ کا دن ہمیں اس سماجی اتھل پتھل یعنی سوشل انجینئرنگ کی یادلاتا ہے جس سے ہمارے بچوں کا آگاہ ہونا ضروری ہے۔ یہ مسئلہ محض پنجاب کا نہیں بلکہ خیبر پی کے، بلوچستان اور سندھ کا بھی ہے اور مشرقی پنجاب اور کشمیروگلگت بلتستان کا بھی۔ افسوس ہمارا باخبر اور مقتدر میڈیا بھی 29 مارچ کے دن کی اہمیت سے تاحال ناآشنا ہے۔ ہم جانتے یا ناجانتے ہوئے سکھ مسلم اور پنجابی غیر پنجابی تضادات کے مہلک اثرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ مذہبی بنیاد پرست اور انتہا پسند تو انہی تضادات کو استعمال کر رہے ہیں مگر ترقی پسند اور لبرل دانشور بھی اسی مطلبی تاریخ کے اسیر نظر آتے ہیں۔ آج اگر ہماری یونیورسٹیاں اور میڈیا اس بارے غور کریں تو کوئی وجہ نہیں ہم اپنی تاریخ سے آگاہی حاصل کرنے کی طرف سکیں۔ کیا آپ یونیورسٹیوں میں پنجاب سٹیڈیز کے نام سے شعبہ جات نہیں بناسکتے؟ کیا آپ تاریخ - 

،سماجیات، سیاسیات اور جغرافیہ کے شعبہ جات میں ایم فل، ایم اے اور پی ایچ ڈی کے لیے پنجاب کی تاریخ و ثقافت کے حوالہ سے مقالے تجویز نہیں کر سکتے؟ آجا کر ہمیں 1857 جیسے واقعات ہی یاد رہتے ہیں جنھیں 1948 کے بعد بھارتی قوم پرستی کا جزو لاینفک بنالیا گیاحالانکہ خود نہرو اس کے حق میں نہیں تھے۔ ہندو بنیاد پرست ساور کر وہ پہلا شخص تھا جس نے 1857 کو جنگ آزادی کہاتھا اور حوالہ اس کا ہندو قوم پرستی تھی۔ انگریز اگر 29 مارچ کو یاد نہیں رکھنا چاہتے تھے وہ تو سمجھ آتا ہے مگر ہم آخر کیوں تاحال انگریزی پالیسیوں کے اسیر ہیں؟ ہم اپنے بچوں کو بابا فرید، بابا نانک، مادھو لال حسین، بابابلھے شاہ، وارث شاہ، بابافرید، میاں محمد بخش کے متعلق نہیں بتانا چاہتے۔ ان باکمال بزرگوں کے لازوال کلام کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔ انگریزی کی 8 ویں کی کتاب میں میلہ چراغاں پر سبق شامل ہوتا تھا مگر اب وہ بھی نکال دیا گیا ہے۔ حسن نظامی کی پنجابیوں کے خلاف لکھی تحریروں کو تونصابی کتب میں ہشیاری سے شامل کیا جاتا ہے مگر امرتا پریتم کی ’’اج آکھاں وارث شاہ نوں۔۔۔ کھتے قبراں وچوں بول‘‘ کو نصابی کتابوں میں شامل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ایک زمانہ میں تیسری سے 8 ویں جماعت تک ہر ضلع کی الگ الگ کتب چھپتی تھیں جو کسی حد تک طالب علم کا اپنی دھرتی سے تعلق جوڑتی تھیں۔ مگر اب ان کتب کو چھاپنابھی بند کر دیا گیا ہے۔ اگر ہمارے بچوں کو یہی معلوم نہ ہو گا کہ انگریزوں کے قبضہ سے قبل پنجابی و سیب کیا تھاتو وہ احساس کمتری کا شکار رہیں گے۔ بس67 سالوں سے اس احساس محرومی کو بڑھاوا دیا جاتا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بس اس لیے 29 مارچ کے دن کو یاد رکھنا ہم سب پر لازم ہے۔ - 

Friday, March 27, 2015

Discussion on Punjabi Novel MadhuLal Hussain ...Listen and comment


Discussion on 

Punjabi Novel MadhuLal Hussain 

Listen and comment


At FM 103 a program was recorded 25th of March 2015 late night from 12.15 till 2.00. The program was based on a discussion about Punjabi Novel MadhuLal Hussain. The recently published Novel is a mixture of literature and history so one can get two benefits in one ticket. The plot of the Novel is designed in the back ground of love between Madhu and son of sheikh Usman(1538-99), a weawer known in history as MahduLal Hussain. The Novel is infact unusual socio-political history of the Lhore written by advocate Khalid Mahmud under the pen name Nainsukh. Afzal Sahir is conducting. Punjabi Short story writer Zubair Jan was on the Phone while the Author, Iqbal Haider Butt and Aamir Riaz are in studio. listen and share your comments




Monday, March 23, 2015

23 March: Timing and Vision plays more important role then chew mere Principals.


23 March

 Timing and vision plays more important role then chew mere Principals.


If one has larger vision and can wait for appropriate timing and one has ability not only to learn from past experience but also to strike when iron is hot than he can play his role potently. Otherwise the leader not only creates hopelessness among workers but also push the movement in footnotes rather than text.  The lesson Jinnah learned from defeat of 1937 elections enable him to revisit his over emphasis on Muslim minority provinces and during 1938 he got support from the Punjab and Bengal and then waited for the appropriate time. At 23rd March 1940 he had inroads via Jinnah Sikander Pact in the Punjab while A K Fazle Haq had joined Muslim Language. It was turning point for ML. Read and learn


سیاست میں اصولوں سے زیادہ اہم بات سیاسی بصیرت ہوتی ہے اور سیاسی بصیرتوں سے اہم بروقت فیصلہ کہ اگر ترتیب غلط ہوجائے تو بڑی بڑی سیاسی تحریکیں بھی محض کتابوں کے فٹ نوٹ میں جگہ پاتی ہیں اور ان کے رہنما سبق آموز کہانیوں کے ایسے کرداروں کا روپ دھار لیتے ہیں جنھیں قابل تقلید مثال نہیں سمجھا جاتا۔

23 مارچ 1940 کا دن ایک سیاسی تسلسل کا حصّٰہ تھا کہ 13 اپریل 1919 سے 23 مارچ 1940 تک پھیلے 21 سالہ سیاسی مدوجذر پر جس کسی کی بھی پر نظر تھی اس کے لیے یہ دن اچھنبے کی بات نہیں تھا۔امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جس طرح دن دہاڑے میلہ منانے آئے پنجابیوں کو انگریز افسر نے بھون ڈالا تھا اس کے ردعمل میں ایسا طوفان آیا جس نے تھمنے کا نام ہی نہ لیا۔ عوامی ردعمل کے ہاتھوں روایتی کلب سیاست کا خاتمہ ہوا۔ مہاتما گاندھی نے تو 5 دن بعد اپنے اخبار ’’ہریجن‘‘ میں مضمون کے ذریعے جلیانوالہ باغ کے واقعہ میں مرنے والوں کو ’’شہید‘‘ ماننے سے انکار کر دیا مگر موچی دروازہ میں میاں فصل حسین کی صدارت میں ہونے والے جلسہ میں علامہ اقبال نے امریکی صدر وڈروولسن کے 14شہرہ آفاق نکات کا حوالہ دے دیا جو چند ماہ پہلے 1918 میں رقم ہوئے تھے۔

1937 کے انتخابات کے نتائج میں سیاسی بصیرت رکھنے والوں کے لیے واضح اشارے موجود تھے۔ مگر آل انڈیا کانگرس اور اس کے ہمنوا جعلی تفاخر میں غلطاں رہے۔ کل گیارہ صوبوں میں ہونے والے ان انتخابات میںکل 1585 سیٹوں پر معرکہ ہوا۔ کانگرس نے 707 سیٹیں جیتیں جو 50 فی صد سے بھی کم تھیں۔ مگر ہوشیار کانگرس نے تاثریہ دیا کہ پورا برصغیر ان کے پیچھے ہے۔ کانگرس کے حمایتی دانشور تو آج بھی جب تجزیہ کرتے ہیں تو صوبائی نشستوں کی بجائے صوبوں کی گنتی کرتے ہیں اور برملا لکھتے ہیں کہ کانگرس گیارہ میں سے 7صوبوں میں جیت گئی تھی۔ جبکہ انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو آسام میں 108 میں سے 33 ، صوبہ سرحد میں خدائی خدمت گاروں کی مدد کے باوجود 50 میں سے 19، سندھ میں 60 میں سے 7، بنگال میں 250 میں سے 54 اور پنجاب میں 175 میں سے کانگرس کو محض 18 سیٹیں ملیں تھیں۔
مسلم لیگ اور کانگرس کے علاوہ گیارہ صوبوں میں 397 نشستیں دیگر پارٹیوں نے جیتیں تھیں جبکہ آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والوں کی تعداد 385 تھی۔ 50 فی صد سے بھی زیادہ نشستوں پر وہ لوگ جیتے تھے جونہ مسلم لیگی تھے نہ کانگرسی۔ خود کو برصغیر کی عوام کی واحد نمائندہ جماعت سمجھنے والی کانگرس نے ان انتخابی نتائج سے سبق نہ سیکھا۔ حد تو یہ ہے کہ سیکولر، ترقی پسندو قوم پرست دانشور تاحال ’’بغض مسلم لیگ‘‘ میں 1937 کے انتخابی نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے حقائق کو مدنظر نہیں رکھتے۔ صوبہ سرحد کی مثال بھی دلچسپ تھی کہ یہاں تقریباآدھے اْمیدوار آزاد حیثیت میں جیتے تھے جن کی تعداد 24 تھی۔

For easy reading click here

http://www.express.pk/story/339994/

Kharals, British loyalists, Sikh-Muslim conflict and the misleading writings

  Kharals, British loyalists, Sikh-Muslim conflict and the misleading  writings 169th Anniversary of Ahmad Khan Kharal  Aamir Riaz (Writer -...