History and Politics of the Punjab and its surroundings with special reference to regional and international scenario.
Saturday, April 24, 2021
امریکی مداخلتاں بارے کھلی گلاں، اسمبلی دا اخیری سیشن تے ایوبی مارشلا: ایبڈو راہیں ''گستاخ'' اسمبلی نوں سزا دتی (تقریراں دے لنک وی)
Thursday, April 22, 2021
Unholy Trinity: Religion Card, interference of US ambassador, & Marshallah in Pakistan & Parliamentary response 1950s
Unholy Trinity: Religion Card, interference of US ambassador, & Marshallah in Pakistan & Parliamentary response 1950s
From Anti-Ahmadyya Movement of Feb 1953 & Imposition of Marshallah in Lhore (06 March) till abrogation of the first constitution (Oct 1958), few months before 1st general election, in order to please masters (the US) externally & annexation of State power internally.
Story of five decisive years 1953-1958
Move to expel French ambassador reminds me some unforgettable events, often missed by many historians yet are present in bit & pieces, scattered due to various hidden as well as naked reasons. There was an assembly in Pakistan who dare to summoned US ambassador Horace A Hildreth in privilege committee, the ambassador refused but assembly discussed the matter. It was Mian Iftiqaruddin of Lhore who took the matter before assembly, than PM, Malik Feroz Khan Noon was confused yet members like Mumtaz Dultana supported but after imposing dictatorship Mian Sahib & others were made horrible examples by Gen Ayub Khan. In 2015, Pakistani parliament in a historic resolution, passed unanimously, passed the famous Yemeni resolution but what happened with ruling party after it, is unfortunate. Expulsion of French ambassador is likewise a double edge weapon yet an ambiguous stand may weak the sitting government because no one will feel comfortable with it. Dealing with master remain important since 1953, but a consistent parliamentary response is key to resolve it.
It was a time when power in Pakistan was ready to shift from old to new masters. Horace Augustus Hildreth was ambassador of US for Pakistan from 1953-1957 and his daughter was married with Sikandar Mirza's son. Horace (December 2, 1902 – June 2, 1988) was born in Gardiner, Maine, the son of an attorney.
Khwaja Nazimuddin was PM & Mian Mumtaz Dultana was CM Punjab. As stated by Aysha Jallal in State of Marshal rule, In 1952 Nazmuddin was in hurry to remove Dultana & instigated wheat crisis. At that time, thanks to Federal govt, wheat smuggling to India increased. It created crisis in the West Punjab. Dultana knew that some big landlords were involved in it and they had backing of Karachi. Due to an amendment in tenancy act in 1952, big landlords were not happy. Meanwhile disturbances began after an ultimatum was delivered to the Prime Minister of Pakistan on 21 January 1953 by a deputation of ulama representing Majlis-i Amal (council of action) constituted by an All-Pakistan Muslim Parties Convention held in Karachi from 16 to 18 January 1953. Their main attack was on Sir Zufrullah. Itsuited Dultana too. Feb was month of disturbances. Finally at 06 March Marshallah was imposed in Lhore. As Aysha jalal quoted with firm references that Gen Ayub was in State department when peace was restored after Marshalah, Ayub had convinced US that it is better to deal with him rather then political government. But for Mian Iftiqaruddin, it was a trailer to impose Marshallah in the country. what he said is reproduced here
ؐMedia owner & intellectual Mian Iftiqarrudin of Lhore who spoke courageously against blatant interference of US ambassador in assembly time & again.
Link of the book of Mian Sahib title Selected Speeches & Statements of Mian Iftiqaruddin edited by Abdullah Malik
https://www.worldcat.org/title/selected-speeches-and-statements-of-mian-iftikhar-ud-din/oclc/623948
Link of its table of contents
http://www.sajjanlahore.org/corners/mianiftikhardin/books/content1.php
Sunday, April 4, 2021
Z A Bhutto & Today's Pakistan: بھٹو کی پھانسی سے قبل اور بعد کا پاکستان کیوں مختلف ہے
سردھر تلی، گلی مری آو
اک عدالتی قتل ، جس سب
کجھ ایکسپوز کر دتا
بھٹو کی پھانسی سے قبل
اور بعد کا پاکستان کیوں مختلف ہے
عامر ریاض
سیاست میں مذاحمت اور مفاہمت، اک پنتھ دو کاج کی طرح ہمیش مقدم رہتے ہیں۔اگر ٹارگٹ واضح ہو تو مفاہمت بھی مذاحمت کا اک روپ قرار پاتی ہے اور ٹارگٹ یعنی مقصد ہی نظروں سے اوجھل ہوتا جائے تو پھر مذاحمت بھی سراب کہلاتی ہے۔
چاراپریل 1979 کے بعد پاکستانی سیاست میں عوام کی اکثریت یہ راز جان چکے تھے کہ حکومت اور ریاست کوئی اور چلا رہا ہے اور
عدالتیں، میڈیا، سرکاری ادارے سب حکم کے غلام ہیں۔ بس اس دن کے بعد سے اب تک اس
ملک پاکستان میں ایک ہی جدوجہد جاری ہے جسے آج ''ووٹ کو عزت دو'' کہتے ہیں تو کل
بحالی جمہوریت کہتے تھے۔ صوبوں کے حقوق، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ اور
میڈیا کی آزادی، اداروں میں مداخلتوں کا خاتمہ اور قانون کی حکمرانی اس جدوجہد کی
مختلف شکلیں ہیں۔ ان گذرے 42 سالوں میں یہ لڑائی اور جدوجہد بہت آگے بڑھ چکی ہے
اور اس کا ٹارگٹ جتنا آج واضح ہے اس کی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے۔آج سلیکٹڈ کے
ساتھ ساتھ سیلیکٹروں کی بات طمطراق سے کی
جا رہی ہے۔
ایک عدالتی فیصلہ کیسے
سیاست، انصاف، راج نیتی اور اداروں کو پراگندہ کر سکتا ہے اس کی نمایاں ترین
مثالوں میں بھٹو کیس جیسا اہم ترین
مقدمہ بھی شامل ہے۔جو کچھ آج جسٹس قاضی
فائزعیسی اور میاں نواز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے اس کے ماضی کے تسلسل کو جاننے کے
لیے بھی بھٹو کیس انتہائی اہم دستاویز ہے۔آج سے 42 برس قبل ضیائی آمریت کے دور میں
ملک کے سب سے مقبول اور ہردلعزیز رہنما کو محض 51سال اور تین مہنیے کی عمر میں
تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ طاقت، گھمنڈ اوربغض میں بھٹو کو پھانسی دینے والے یہ راز نہ جان پائے کہ وہ اپنے ہاتھوں سےپاکستانی سیاست کو اک ''منصور'' دئیے جا رہے ہیں۔ضیائی
آمریت میں محض سیاسی کارکنوں پر افتاد نہیں پڑی تھی بلکہ بھٹو پر ہونے والے منظم حملے کی زد میں کئی سول
ملٹری افسر،جج اور سرکاری ملازمین بھی آئے تھے کہ یہ ان کہی کہانی ابھی لکھی نہیں
گئی۔ جج صفدر شاہ کی کہانی تو بہت سوں نے لکھی ہے جنھیں جج ہوتے ہوئے وطن عزیز سے
افغانستان اورلندن کا رخ کرنا پڑا مگرنصر من اللہ کی بابت بہت کم لکھا گیاجن کا
بڑا جرم یہی تھا کہ وہ جج صاحب کے داماد
بھی تھے اور بھٹو حکومت کے خاتمہ کے وقت صوبہ بلوچستان کے چیف سیکٹری بھی
تھے۔وہی بلوچستان جو ماضی قریب کی تاریخ میں حکومتیں گرانے کی کمیں گاہ بنایا ہوا
ہے۔سیدہ حمید بھٹو بارے لکھی اپنی کتاب
میں لکھتی ہیں کہ نصر من اللہ بھٹو دور کے واحد چیف سیکٹری تھے جن
پر ضیائی دور میں الیکشن میں دھاندلیاں کروانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
5 جولائی 1977 سے 4 اپریل
1979 کے درمیان گذرے 21 مہینوں کی داستان تاریخ پاکستان کا وہ انمٹ سیاہ باب ہے جس
بارے گذشتہ 42 برس میں کالموں اور کتب میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے مگر نصابی کتب
میں اس کی جھلک شامل کرنا بھی ''قومی مفاد ''کے خلاف گردانا جاتا ہے۔ان 21 مہینوں
میں بھٹو کی رہائی کے حق میں اور ضیائی
آمریت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا
ہراول دستہ پنجاب تھا اور زیادہ تر پکڑ دھکڑ بھی لاہور سے پنڈی تک پھیلی جی
ٹی روڈ کے ارد گرد پھیلے پنجابی شہروں ہی
میں ہوئی۔ضیا ایک سوچی سمجھی سکیم کے ساتھ
اقتداری ہوا تھا کہ افسرشاہی، عدلیہ، میڈیا اورسیاستدانوں میں ایسے افراد ڈھونڈے گئے جن کا کبھی نہ کبھی بھٹو سے اختلاف رہا تھا۔سری
لنکا کی سپریم کورٹ کے جج اور رکن پارلیمنٹ راجہ رتنام اپنی انگریزی کتاب ''بحران میں گھری عدلیہ:ذولفقار علی بھٹو
کا ٹرائل''میں لکھتے ہیں کہ جب بھٹو کا تختہ الٹا گیا تو جج مولوی مشتاق حسین
یورپ میں تھے مگر ضیا نےانہیں واپس بلایا اور لاہور ہائیکورٹ کا عبوری چیف جسٹس لگا دیا۔یوپی کے شہر سہارن پور
سے تعلق رکھنے والے مولوی مشتاق سمجھتے
تھے کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس
بننےکے حقدار تھے مگرچھٹی آئینی ترمیم کی وجہ سے بھٹو نے ایسا نہ ہونے
دیا۔مارشلا لگانے کے بعد بھٹو کو مری اورایبٹ آباد رکھا گیا تھا ۔ اپنی سوانح''جہد مسلسل '' میں بابائے سوشلزم شیخ
رشید نے بڑی تفصیل سے ان دنوں بارے لکھا ہے۔ عوامی ردعمل کو بھانپتے ہوئے مارشلا
لگاتے ہی ضیا نے انتخابات کا اعلان کر دیا اور یہی تاثردیا کہ اس نے مارشلا بھٹوکو
بچانے کے لیے لگایا ہے۔شیخ رشید نے 26 جولائی 1977 کو پیپلزپارٹی کے رہنماوں کے
ساتھ بھٹو کی میٹنگ کا لکھا ہے جس میں وہ بقلم موجود تھے۔ ایسے ہی 28 جولائی
کو بھٹو کی مولانا مفتی محموداور پی این اے کے دیگر زعما سے''حفاظتی حصار''
میٹنگ ہوئی جس کا ذکر آئینی جدوجہد پر لکھی کتاب میں وکلا تحریک کے رہنماحامد خان
نے کیا ہے۔ 2 اگست کو ضیا نے اکتوبر کی 18تاریخ کو الیکشن کروانے کا اعلان کر
دیا۔دوسری طرف حیدر آباد سازش کیس کے ملزمان کو
غداری کیس سے بری کرتے ہوئے پختونوں اور بلوچوں کو رام کیا گیا،مگر ضیا
ساتھ ساتھ اپنے ایجنڈے کی طرف مسلسل بڑھ
رہا تھا۔وریں اثنا 1974 میں قتل ہونے والے نواب احمد خان کی ایف آئی آر پر چلنے
والے کیس کی بابت 27 اگست کے دن چپکے سے کہا
گیا کہ ریاست اس کیس میں چلان پیش کرے۔اس ضمن میں حامد خان نے 28 اگست 1977 کے ڈان
اخبار کی خبر کا حوالہ بھی دیا ہے۔یہی نہیں بلکہ ایف ایس ایف کے سابق سربراہ مسعود محمود کو بھی
رام کر نے کی مہم شروع ہو گئی۔ اس دوران بھٹو صاحب جلسے بھی کر چکے تھے جس میں شیخ
صاحب نے لاہور کے فقیدالمثال جلسے بارے لکھا ہے۔ 3 ستمبر 1977 یعنی انتخابات سے45
دن قبل ایجنڈا کھلنے لگا اوربھٹو صاحب کو صبح 70 کلفٹن سے نواب احمد خان کے قتل کے
الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔یہی وہ دن تھا جب ضیا شاہی کھل کے بھٹو مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے
لگی اور ضیا نے الیکشن ملتوی کرنے کا اشارہ بھی اسی دن دے دیا۔ بھٹو کا کیس سیشن
کی بجائے اب ہائیکورٹ میں آ گیا اور6 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت
بھی جمع ہو گئی۔13 ستمبر کو جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صمدانی نے بھٹو کی ضمانت
لے لی تو چند دن کے لیے لگا کہ ضیا شاہی کے طوطے اڑ گئے ہیں۔مگر چار دن بعد ہی
مارشلا حکمنامے کے تحت بھٹو کو ہائیکورٹ
کا آڈر اڑاتے ہوئے دوبارہ گرفتار کر لیا
گیا۔عدالتیں اس تمام عمل کو خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہیں۔ 17 ستمبر سے 18 مارچ
1978 کے دوران ہماری عدالتی و سیاسی تاریخ میں جو چمتکار ہوئے ان میں نمایاں ترین
چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تبدیلی تھی جس کی تاریخ 22 ستمبر 1977 ہے۔تبدیل ہونے والے
جسٹس یعقوب علی خان اور نئے آنے والے جسٹس انوار الحق دونوں ہی کا تعلق پنجاب کے
ضلع جلندھر سے تھا کہ خود ضیا الحق کا خاندان بھی جالندھر ہی سے آیا تھا۔جب ایجنڈا
بڑا ہو تو ذاتوں اور صوبے کی اہمیتیں ثانوی رہتیں ہیں مگر بعدازاں توجہ ہٹانے کے
لیے انہیں مطلبی تشریح دی جاتی ہے۔فوجی عدالتوں کے ذریعے بائیں بازو بشمول پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بڑے
پیمانے پر پکڑ دھکڑ کا زمانہ بھی یہی ہے۔مجھے قذافی سٹیڈیم کا وہ دن کبھی نہیں
بھول سکتا جب ہم گوالمنڈی سے انگلینڈ اور
پاکستان کا کرکٹ میچ دیکھنے گئے تھے کہ تاریخ تھی 16 دسمبر1977۔میری اپنی عمر 11
سال اور دو مہنیے تھی۔دوران میچ جیسے ہی نوجوان بے نظیر بھٹو اپنی جہاندیدہ
والدہ بیگم نصرت بھٹوکے ساتھ میچ دیکھنے
آئیں تو سٹیڈیم ضیا مخالف نعروں سے گونج اٹھا تھا۔پولیس نے بے دریغ لاٹھی چارج کیا
اور نصرت بھٹو پر حملہ بھی ہوا اور بے
نظیر بھٹو نے عالمی میڈیا کو صاف بتا دیا
کہ ضیا الحق بھٹو کا عدالتی قتل چاہتا
ہے۔واپسی پر قذافی سٹیڈیم سے گوالمنڈی تک کئی میل کے پیدل سفر میں جگہ جگہ جل چکی
بسیں، ٹائر اور پولیس کی پھرتیاں دیکھنے کو ملیں جو اس عوامی ردعمل کی اک جھلک
تھی۔انصاف کے قتل عام کی تیاری مکمل تھی کہ 18 مارچ کو لاہور ہائیکورٹ کے فل
بینچ نے وہی کیا جو ایجنڈا خاص تھا اور
بھٹو کو پھانسی سنا دی گئی۔اس دن کا احوال لکھتے ہوئے بابائے سوشلزم بتاتے ہیں کہ
میں کوثر علی شاہ کے مکان واقع گلبرگ
لاہور پر تھا کہ رات 8 بجے ایس ایم مسعود
کے گھر جنرل رٹائر ٹکا خان سے ملاقات میں آگے کی حکمت عملی بارے میٹنگ
ہوئی۔اس وقت بھی کچھ لیڈر بشمول ملک معراج خالد مفاہمت کی بات کرتے تھے اور شیخ
رشید کو مہم جو کہتے تھے۔اپنی کتاب کے صفحہ 248 پر شیخ رشید نے جو بات لکھی ہے وہ
آج کی سیاست پر بھی صادق آتی ہے اور جب تک جدوجہد ہوتی رہے گی یہ بحث بھی جاری رہے گی۔شیخ صاحب '' باغباں خوش
رہے، راضی رہے صیاد بھی'' والی پالیسی کے بجا طور پر ناقد تھے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹی میں بہت سے رہنما ان
سے متفق نہ تھے جن میں سے کچھ کے نام بھی انھوں نے لکھے ہیں۔ بہرحال یہ طے ہوا کہ 20 مارچ
سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور
پہلی گرفتاری سابق آرمی چیف جنرل رٹائرڈ ٹکا خان دیں گے۔مرکزی جنرل سیکٹری یاسین وٹو تک اس پالیسی سے متفق نہیں تھے۔ٹکا
خان کی گرفتاری ایک بڑی خبر تھی جس کو عالمی میڈیا نے بھی پک کیا۔مگر اس کے
بعد حکمت عملی بارے اندرونی اختلافات اور
دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے گرفتاریوں کا
سلسلہ چل نہیں سکا البتہ کارکنوں نے
مذاحمتی جدوجہد جاری رکھی۔ 28 مارچ 1978 سے 4 اپریل 1979 کا عرصہ یوں تو ایک سال 9 دنوں پر محیط ہے مگر اس
دوران کراچی، اندرون سندھ، کوئٹہ، پشاور میں
مذاحمت کی کیا شکلیں تھیں تب جا کر تجزیہ مکمل ہو سکتا ہے۔بھٹو کیس اب
سپریم کورٹ میں تھا کہ جس کی تیاری ایجنڈے کے مطابق پوری تھی۔بھٹو کی عدالت میں کی
تقاریر اور بیانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں۔6 فروری کو سپریم کورٹ نے بھٹو کی پھانسی
پر مہر لگا دی جبکہ جن تین ججوں نے اس سے اختلاف کیا تھا انھوں نے بھی رویو پٹیشن
میں باقی ججوں ہی کا ساتھ دیا۔یاد رہے کہ پورے عدالتی سسٹم کو یرکاتے ہوئے دس فروری 1979
کو ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نےیہ اعلان بھی کر دیا کہ عدالتی نظام کو اسلامی نظام کے
تحت بدل دیا جائے گا۔4 اپریل کی صبح بھٹو کو پھانسی دی دی گئی، اس کی بیگم اور
بیٹی کو بھی جنازہ میں شرکت نہ کرنے دی مگر اس قتل ناحق نے بھٹو کو امر کردیا۔آج
42 سال بعد بھی بھٹو وطن عزیز میں اک
جدوجہد کی زندہ علامت ہے کہ اس کے مخالفین بھی
بھٹو ہی کا دم بھرتے ہیں 42 سال بعد پوری قوم وہی کہہ رہی ہے جو بھٹو مرحوم
کہتے کہتے تختہ دار جھول گئے۔مفاہمت اور مذاحمت کی تاریخ خود اپنے تائیں اک صبر آزاما بحث کی
متقاضی ہے مگر جب ٹارگٹ واضح ہو جائے تو پھر صورحال میں یکسر تبدیلیاں وقوع پذیر
ہو جاتی ہیں جیسا کہ آج ہم سب مشاہدہ کر رہے ہیں۔اسی لیے 18ویں صدی کے مشہور
پنجابی صوفی شاعر کی یہ بات حاصل بحث ہے کہ
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور
Further readings
Sunday, March 28, 2021
Why Pakistan & India are reluctant to remember 29th March 1849? Black Day of our history
Remember 29th March
Two part article written in 2012
A 2014 event
An article written in 2015
A Day when Britain annexed The Punjab 166 years back and jeopardized the whole region
A radio program of 2016
History of the Punjab & Its surroundings Open the colonial knot & Deconstruct misleading History
A post of 2017
We know 1857/Bhagat Singh etc but we don't remember 29th March...Annexation Day?
Lok Lhar program 2017
Radio Show about 29 March 1849--A Day when the Punjab was annexed by British forces 167 years back
Radio Program of 2019
Sunday, March 14, 2021
Listen the Story of Mahesh Kumar, A Sindhi intelectual, journalist, political worker & broadcaster @ Lok Lhar Punjabi program
یکم مارچ 1963 نوں سندھ دے ضلع گھوٹکی دے پنڈ عادل پور وچ تیکم مل دے گھر جمے۔
ماموں جیوت رام آر منگلرانی وی صحافی سن
بھرا جئے سندھ توں متاثر سی تے مہیش آپ لیفٹ ول آ گیا
بچپن توں تنظیماں بناون ول گل چھوئی
درسی ٹیسٹ پیپراں تے نقل نے تعلیمی بندوبست دا بیڑا غرق کر دتا
سکول وچ ساڈے نال تعصب نہیں سی۔1963 وچ جمن دا مطلب ہے کہ 1975 یا 77 تیک ماحول بہتر سی۔
قوم پرستی دا جیہڑا رستہ نسل پرستیاں ول جاندا ہے میں اس دے خلاف ہاں
سندھیاں نال نوکریاں وغیرہ وچ زیادتی ہوندی سی
A video clip of Mahesh Kumar in the program
https://www.facebook.com/aamirr/videos/10158407260669032
ساڈے علاقے وچ بہوں پنجابی رہندے سن
پنجابیاں خلاف سندھ وچ جان بجھ کے نفرتاں پھیلایاں گیاں
لسانی تے قومیتی بنیاداں تے 1972 وچ جیہڑی آگ لگائی گئی اس نوں اسی آج تیک بھگت رہےہاں
لوکاں نوں لڑاون والی پالیسی نے سب نوں نقصان دتا
بھٹو دی پھانسی خلاف اسی گھوٹکی وچ جلوس کڈیا سی
ساڈے سکول دے منڈے گرفتار وی ہوئے
میں صحافی بننا چاہندا ساں پر گھر والے خلاف سن۔
میں 1983 وچ 8 مہینے ایم آر ڈی دی لہر وچ جیل رہیا
ساڈے تے بہوں ظلم ہوندا سی۔
لوکاں نوں کہندے سن کہ معافی نامے لکھو تے گھر جاو۔ مینوں وی آکھیا کہ معافی نامہ لکھو کہ مڑ ایہہ کم نہیں کرو گے۔ میں 20 سال دا ساں۔ میں آکھیا کہ تسی لکھ کے دیو کہ تسی ہر 5 سال بعد اپنے ہی ملک نوں فتح نہیں کرو گے۔
جیل اک یونیورسٹی ثابت ہویا
میری سیاسی تربیت دا نواں بوہا گھلیا
بےنظیر بھٹو ہوراں مینوں پلیسمنٹ بیورو راہیں سرکاری نوکری ملی جو میرٹ پاروں سی'
گھوٹکی وچ پہلی روٹا مشین میں لائی سی
فیر میں تے دوجے دوستاں نے 1995 وچ بےنطیر دے دوجے دور وچ قرضہ لے کے ''سند'' اخبار کڈیا جس ریکارڈ سیل کیتی
صوبیاں نوں توڑن نال اشرافیہ نوں فیدے ہون گے
میں 18ویں ترمیم دے حق وچ ہاں پر ہلے اس تے پورا عمل نہیں ہویا
ایہہ ترمیم جمہوری میثاقاں دا پردھان لشکارا سی
عمرانی سرکار 18ویں ترمیم مکاون لئی آئی ہے۔
زبردستی مذہب تبدیل کروان دا مسلہ وی سیاسی ہے
جے کوئی بالغ کڑی مذہب تبدیل کرے تے تسی اوس نوں ڈک نہیں سکدے۔ پر بہوں سارے کیساں وچ نکی نکی کڑیاں، بالڑیاں نوں زبردستی مذہب بدلن ول لیجایا جاندا ہے۔ سانوں ایس بارے پوری گل کرنی چاہیدی ہے۔ایہہ مسلے ضیائی دور وچ پیدا کیتے گئے۔
جداں کیمونسٹ پارٹی جمال نقوی گروپ وچ پاڑ پیا تے اوہ اقلیتی تے اکچریتی گروپاں وچ منقسم ہوئی 1987 وچ فیر میں پارٹی وچ نہیں رہیا۔
جنہاں جمال نقوی یا جام ساقی نوں زندیق قرار دتا اوہ غلط سی
تمام قوم پرستاں نوں پی ڈی ایم وچ آنا چاہیدا ہے بشرطیکہ پی ڈی ایم وچ پاڑ نہ پئے تے فیر جمہوری لہر تگڑی ہوئے گی۔
ملک وچ اک بلدیاتی بندوبست ہونا چاہیدا ہے تے سیاستداناں نوں ایس بارے سوچنا چاہیدا ہے
Listen Complete recording of the radio show
Some pictures of Mahesh in MastFM103
Wednesday, March 10, 2021
Is Micro credit a miracle for the POOR? listen Asjid Qureshi talk with MastFM103

Is Micro credit a miracle
for the POOR?
Listen Asjid Qureshi talk with MastFM103
Monday, March 8, 2021
Women Day 2021 & Challenges. Listen unusual discussion in two Punjabi Radio programs (Lok Lhar) MastfM103
Women Day 2021 & Challenges. Listen unusual discussion in two Punjabi Radio programs
(Lok Lhar) MastfM103
عالمی زنانی دیہاڑ 2021
سنو کجھ گھجیاں گلاں دا بھنڈار
اتے کجھ اونترے سوال تے پڑچول۔
زنانیاں دی زبانی، کجھ نویں، بہتی پرانی
Can we judge our past with present norms, ideas or vice versa? How to interpret past? Issue of Women rights is a multi class issue so it has many supporters from various classes. How women related legislation and laws help us in forming a better society. What are the pertinent issues of women from lower classes. Is Harassment law needs little attention? and many more questions, click and listen
Guests: Abida Ch Sec General AWP Punjab & Lawyer. Salma Butt MPA Punjab from PML Nawaz. Hibba, Lawyer & Teacher, Eamen Buchha (Multan) Development Studies. Fatima Student.
Abida Ch born in Punjabi district Khaniwal and she recorded her story in Punjabi about women issue
https://www.facebook.com/aamirr/videos/10158391359159032
Video clip of Hiba
https://www.facebook.com/aamirr/videos/10158396298044032
Abida Ch talking about her demands
https://www.facebook.com/aamirr/videos/10158391419844032
Recording of Lok Lhar radio program recorded at March 5th, 2021 at MastFM103, Lhore studios with Abida Ch & Salma Butt
Complete recording of Lok Lhar Punjabi program recorded at March 7th 2021 at MastFM103,Lhore with Eamen, Hibba & Fatima
Kharals, British loyalists, Sikh-Muslim conflict and the misleading writings
Kharals, British loyalists, Sikh-Muslim conflict and the misleading writings 169th Anniversary of Ahmad Khan Kharal Aamir Riaz (Writer -...
-
Opposition of One-Unit, Ayub Khuhro & abduction of Speaker Sindh Assembly (Forgotten Past) Formation of One Unit is among the controve...
-
کتاب اینج دی ہونی چاہیدی ہے کہ جنج جمے سمندراں لئی کوہاڑی Punjab di Vel A column at Dawn Punjab di Vel celebrated at Dawn.com by Harris ...
-
Adina Beg Khan (1710-1758) A Smart Punjabi While studying history, we usually mislead by “titles”. Look this name, Adina Beg Khan...





































