Friday, February 6, 2015

US UK Relations: Resonance of new Shifts & Conflict



US UK Relations Resonance of new Shifts & Conflict

Post WW11 alliances are history now. After two successive attacks in the form of WWs Germany is again on the road of Bismarck. Rise of China and retreat of Russia from the infamous Cold War in the last decades of 20th century has already created ample spaces in new century. Turkey is a new hope for 1.6 billion Muslims spread in more than 100 countries.  Britain’s vision of G 20 has less appeal as compared to 1990s. Toney pinpointed the failure of British diplomacy in this regard after 9/11 in his book Journey. Entry of US in India is considered as a shift from post WW2 policy to handle South Asia from London. Is it an era of new alliances? Unlike Cold War days, new politics will depend largely on interdependencies rather conflicts. The news of Reuters looks interesting in finding new avenues by Britain without mentioning a good bye to US umbrella.  From Wiki leaks to Snowden new conflict is pinching power players in many ways. The conflict may get more time to come out from carpet but resonance is there. Read and enjoy

The Link


UK tribunal says sharing intelligence with US was unlawful


LONDON: A British tribunal ruled on Friday that some aspects of intelligence-sharing between security agencies in Britain and the United States were unlawful until December 2014, in a ground-breaking case brought by civil liberties groups.
The Investigatory Powers Tribunal ruled that Britain’s GCHQ had acted unlawfully in accessing data on millions of people in Britain that had been collected by the US National Security Agency (NSA), because the arrangements were secret.
Campaign groups Liberty, Privacy International, Amnesty International and others brought the case following revelations about mass surveillance made by former NSA contractor Edward Snowden.
It was the first time in its 15-year history that the tribunal, which deals with legal challenges to Britain’s GCHQ, MI5 and MI6, had issued a ruling that went against one of those security agencies.
The legal challenge forced the British government to reveal some details about the previously secret rules governing how GCHQ accessed data collected as part of the NSA’s Prism and Upstream programs, first revealed by Snowden in June 2013.
The tribunal ruled that “the regime governing the soliciting, receiving, storing and transmitting by UK authorities of private communications of individuals located in the UK, which have been obtained by U.S. authorities pursuant to Prism and … Upstream” contravened human rights laws until the government’s disclosures about how the arrangements worked.
A spokesperson for Prime Minister David Cameron said the rules on intelligence-sharing were now fully lawful, adding: “The judgment will not require GCHQ to change what it does.”
Violated our rights
Material revealed by Snowden and cited by the civil liberties groups showed Prism allows the NSA to access data handled by the world’s largest Internet companies, including Google, Yahoo, Facebook and others.
The groups hailed Friday’s ruling as a major victory.
“We now know that, by keeping the public in the dark about their secret dealings with the National Security Agency, GCHQ acted unlawfully and violated our rights,” Liberty’s legal director James Welch said in a statement.
Friday’s ruling followed on from a judgment by the same tribunal in December that Britain’s legal regime governing mass surveillance of the Internet by intelligence agencies did not violate human rights.
The tribunal’s concern, addressed in the new ruling, was that until details of how GCHQ and the NSA shared data were made public in the course of the court proceedings, the legal safeguards provided by British law were being side-stepped.
“Today’s IPT ruling reaffirms that the processes and safeguards within the intelligence-sharing regime were fully adequate at all times,” a GCHQ spokesperson said. “It is simply about the amount of detail about those processes and safeguards that needed to be in the public domain.”
The civil liberties groups are preparing to challenge the December ruling in the European Court of Human Rights, arguing that the limited safeguards revealed by the government were not enough to make GCHQ’s activities compliant with privacy laws.

Point Scoring & Extremism? Revival of A bad legacy


Point Scoring & Extremism? 

Revival of A bad legacy



In Peshawar we were on same page but in Shikarpur we were not why this division? Is it reflection of politics? No one protested against elected provincial government in KPK than why MWM and MQM pointed their fingers against PPP Sindh government.  After 21st amendment there are some forces that raised voices against the consensus move against extremism. Fazla ur Rahman started it and after Lawyers now MWM and MQM are in line.  Apparently Lawyers have reservations on military courts due to spirit of the constitution but same lawyer groups have no reservation against induction of Objective Resolution as permanent part of the constitution. Military courts have an expiry date of two years but Objective resolution has permanently damaged the spirit of the constitution. Imran Khan’s recent statement in support of military dictatorship looks more dangerous in these circumstances. Using extremism in politics is an old colonial legacy and in these circumstances point scoring will affect the derive against extremism badly. 

Read the article published in weekly humshahri

عامر ریاض۔۔۔۔۔ 
سانحہ پشاور کو ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے کہ ایک اور سانحہ نے ہمیں آن لیا۔ سانحہ شکارپور نے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کر ڈالا کہ دہشت گرد اپنی پوری قوت سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس سانحہ پر جو ردعمل دیکھنے میں آیا وہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں سے جس طرح ہر سطح پر مقابلہ کرنے کے عزم کا گزشتہ دسمبر میں اظہار کیا گیا تھا اس میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد ایک مخصوص ذہنی رجحان کے تحت یہ کہا گیا تھا کہ منتخب حکومت ’’تھلے‘‘ لگ چکی ہے۔ ایسے ہی سانحہ شکارپور کو محض صوبائی و فرقہ وارانہ حد تک محدود کرنے کے جتن کیے گئے۔ یہ سب افسوسناک ہی نہیں بلکہ مجرمانہ بھی ہے۔ سانحہ پشاور اور سانحہ شکارپور پر دو متضاد ردعمل کیوں؟ سانحہ پشاور پر اگر قوم، فوج، سول سوسائٹی یکجا نظر آتی ہے تو پھر سانحہ شکار پور پر منقسم کیوں؟کیا وقت آ نہیں گیا کہ ہم سانحات پر سیاست نہ کریں اور ان واقعات کو ’’محدود دائروں ‘‘ میں مقید کرنا بند کردیں۔ سانحات پر سیاست کوئی مقتدر ادارہ کرے یا پھر سیاسی کھلاڑی، اس کا سب سے مہلک اثر تو انتہاپسندی و دہشت گردی مخالف مہم پر پڑتا ہے کہ یوں جس یکجہتی و طاقت سے انتہا پسندوں، دہشت گردوں کو پیغام دینے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ممکن ہی نہیں رہتا۔ 

فرانس، امریکہ، چین میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایسی منقسم مہمیں نظر نہیں آتیں مگر ہمارے ہاں بوجوہ اس کی آڑ میں ’’اپنا اُلو سیدھا‘‘ کرنے ہی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پیرس میں ہونے والے حالیہ واقعات کے باوجود فرانسیسی صدر فرانکولیس ہولانڈے نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر دہشت گردی مخالف مہم کو ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ قرار دینے کی سختی سے مخالفت کی۔ انھوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف مہم کسی مذہب یا فرقہ کے خلاف نہیں بلکہ صرف اور صرف انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہے۔
یہ وہ پالیسی ہے جسے رونالڈ ریگن اور جارج بش جونیئر کے ادوار میں نہیں اپنایا گیا تھا۔ 1980ء کی دہائی میں ایک مخصوص مسلم اقلیتی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو افغان جہاد میں ’’معتبری‘‘ ملی تھی تو 9/11 کے بعد ان کے مخالف مسلم اقلیتی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو ’’معتبری‘‘ بخش دی گئی۔ ان دونوں پراجیکٹوں میں ریاست پاکستان دامے سخنے شامل تھی۔ اس طرح کی دوہری پالیسیوں ہی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف -

مہمیں مؤثر نہیں ہو سکی تھیں۔ مگر 21 ویں صدی کی دوسری دہائی میں چین، امریکہ، فرانس، جرمنی میں پرانی پالیسی سے مراجعت کے شواہد نظر آرہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں پرانی پالیسی کے رکھوالے تادم تحریر متحرک ہیں۔ چائنا ڈیلی کی 30 جنوری کی ایک رپورٹ میں چین کی اس پالیسی کا ذکر بھی ہے جس میں چینی اساتذہ کو مذہبی ہم آہنگی کو اپناتے ہوئے انتہاپسندی کی مخالفت کی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ 110 کے نام سے چین میں ایک ایسا فون نمبر ہر چینی کے پاس ہے جس پر وہ مذہبی منافرت پھیلانے والے کسی بھی شخص یا گروہ کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ جو لوگ بھی مذہبی منافرت پھیلانے میں ملوث پائے جائیں گے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ پاکستان میں سانحہ پشاور کے بعد یہی لگ رہا تھا کہ دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف سب ایک ہی صفحہ پر آگئے ہیں ۔ مگر 45 دن کے اندر اندر صفحہ پر لکیریں پھیری جانے لگیں۔ پہلے تو یہ کہا گیا کہ منتخب اسمبلی اور حکومت نے اپنے ہاتھ کاٹ کر سکیورٹی اداروں کو دے دیئے ہیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن حرکت میں آئے۔ اس کے بعد وکلاء کے ایک گروہ کو بھی ’’آئین کی روح‘‘ کا خیال آگیا۔ آئین میں شامل ضیاالحقی شقوں بشمول قرارداد مقاصد پر تو وکلاء کے اس گروہ کو کوئی اعتراض نہیں جس نے آئین کی جمہوری روح کو تار تار کر رکھا ہے مگر انہیں فوجی عدالتوں کے دو سالہ قیام پر اعتراضات ہیں۔ دوہری پالیسی پر عمل کرنے کی روایت کو عمران خان نے بر قرار رکھا کہ ان کی پارٹی کے مقتدر رہنما حامد خان اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان منقسم مہموں میں اضافہ و حدت المسلمین نے کیا جو بوجوہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس اہم مسئلہ پر اکٹھا کر کے مشترکہ پیغام دینے سے گریزاں نظر آئی۔ حکومت سے باہر ایم کیو ایم تو پہلے ہی سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی سے خار کھائے بیٹھی تھی کہ اس نے بھی اپنا وزن اس میں ڈالا۔ یہ تک کہہ ڈالا گیا کہ سندھ کی منتخب سرکار کو ختم کرکے ایمرجنسی لگا دی جائے۔ پیر پگاڑہ کب پیچھے رہنے والے تھے کہ انھوں نے بھی غوث علی شاہ اور پرویز مشرف سے ملاقاتیں کرکے متحدہ مسلم لیگ کی آڑ لیتے ہوئے سندھ حکومت کو گرانے کی راہ دریافت کر لیں گے۔ ایسی ناکام مہم چلانے کی کوششیں دھرنوں میں بھی ہوئی تھیں۔ یہ سب مہمیں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کو کیا پیغام دے رہی ہیں؟ ایک طرف سب لوگ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف خود ’’لیا اپنی صورت کو بگاڑ‘‘ کی عملی تصویر بنے ہیں۔ یہی جماعتیں، گروہ اور ادارے آل پارٹیز کانفرنسوں میں کچھ اور کہتے ہیں، ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ان کے لیڈروں کے دلائل مختلف ہوتے ہیں مگر عملی سطح پر جو کچھ جنوری کے مہینہ میں انھوں نے کیا وہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ وکلا تحریک کو اگر آئین کی روح کی پاسداری کرنی ہے تو اس کا آغاز قرارداد مقاصد کو دوبارہ سے آئین کے دیباچہ میں لانے سے ہونا چاہیے۔ 1956، 1962، 1973 کے دساتیر میں قرارداد مقاصد آئین کے دیباچہ ہی میں تھی۔ مگر ضیاالحق نے اسے آئین کا حصہ بنایا تھا اور یوں 62، 63 جیسی شقوں کا آئین میں اضافہ ہوا تھا۔ قانون کی حکمرانی کے یہ چیمپئن اپنے مربی جنرل مشرف کے مقدمہ کو تو اک حرف غلط کی طرح مٹانے پر تلے ہیں کہ اس معاملہ پر حامد خان کی جماعت اور ایم کیو ایم کا مؤقف یکساں ہے۔ قانون کی حکمرانی کی آڑ لے کر حامد خان منتخب اسمبلی اور حکومت کو سبق سیکھانا چاہتے ہیں۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ اپنے اپنے ایجنڈوں میں غلطاں سیاسی کھلاڑی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف بن چکے اس تاثر کو زائل کرنے میں یکجا ہیں جو 16 دسمبر کے بعد بننے لگا تھا۔ سول ملٹری تعلقات میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ مرکز یا صوبوں میں حکمرانی کرنے والوں سے سیاسی اختلافات رکھنا بھی مسئلہ نہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ کو مقدم رکھنے کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے ۔ مقتدر اور منتخب اداروں میں کشمکش بھی حقیقت ہے۔ مگر ان اختلافات کو دہشت گردی مخالف مہم کی آڑ لے کر بڑھاوا دینا کہاں کی دانشمندی ہے بھلا؟ ان اختلافات پر سیاست کرنے کے لیے قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں موجود ہیں۔ جن کے پاس صوبائی یا مرکزی حکومتوں کے خلاف ثبوت ہیں وہ عدالتوں میں بھی جاسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ اور چاروں ہائیکورٹ ان کی بات سننے ہی کے لیے بیٹھے ہیں۔ مگر اس کے باوجود احتجاج کے لیے ہڑتالوں اور دھرنوں ہی کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اختلافات تو جمہوریت کا حسن ہے مگر اس حسن کو جمہوریت کے خلاف استعمال کرنے کے جتن بھی کیے جاتے ہیں۔ پشاور سانحہ کے بعد نہ تو کسی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کیا تھا نہ ہی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یوں سانحہ پشاور کے بعد جو یکجہتی نظر آئی اس سے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کو مشترکہ پیغام دیا جاسکا تھا۔ مگر سانحہ شکارپور کے بعد یہ پیغام کیوں نہیں دیا جاسکا اس بارے کوئی دو رائے نہیں۔ طالبان مخالفت کا راگ الاپنے والی ایم کیو ایم بھی جب ان واقعات کو آڑ بنا کر محض سندھ حکومت کو گرانے کی مہموں میں نکل آئے تو اس کو کسی بھی طرح خوش آیند نہیں کہا جاسکتا۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مہم اس وقت تک بے توقیر رہے گی جب تک مقتدر ادارے اور سیاسی کھلاڑی اس مہم کی آڑ میں اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا رہیں گے۔ سیاسی کھلاڑیوں اور مقتدر اداروں کی اس مہم میں سنجیدگی ان کے بیانات سے نہیں بلکہ عمل سے جانچی جائے گی۔ بالفرض اگر سندھ میں ایمرجنسی لگ جائے یا پیپلز پارٹی کی منتخب سرکار گر جائے یا وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ مستعفی ہو جائیں تو کیا سانحہ شکارپور کے ملزم گرفتار ہوجائیں گے؟ دھرنوں اور ہڑتالوں کی روش کو جاری رکھنے والے یہ بات یاد نہیں رکھنا چاہتے کہ ان کی ایسی حرکات سے کن قوتوں کو فائدہ مل رہا ہے۔ کیا آپ کے لیے اپنی سیاست کو بڑھاوا دینا ہی مقدم ہے؟ منتخب حکومتوں کو کمزور کرنے سے کیا انتہا پسندی کے خلاف مہم تگڑی ہوگی؟ ان میں سے کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جو صوبائی حکومتوں پر یہ دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ مارچ، اپریل 2015ء میں اپنے اپنے صوبوں میں نفرتوں اور تعصبات سے پاک نصابی کتب چھاپنے کو یقینی بنائیں۔ اس معاملہ پر تو میڈیا بھی گونگا ہے اور وکلا بھی خاموش۔ کیا محض سکولوں کی دیواریں اونچی کرنے، خار دارتاریں لگانے اور کیمرے چالو کرنے سے ہی ہمارے بچے محفوظ ہوجائیں گے؟ ملک میں چلنے والے فرقہ وارانہ چینلوں بارے بھی یہ سب خاموش ہیں۔ کسی ایک واقعہ پر بیان داغنے سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس چومکھی لڑائی کے لیے ہر سطح پر نظر رکھنی ہوگی۔ مگر فی الحال نظر یہی آتا ہے کہ اس مہم میں جس سنجیدگی کی ضرورت ہے وہ عنقا ہے۔ سیاسی لڑائیاں اپنی جگہ اہم مگر یہ نظر آنا بھی ضروری ہے کہ انتہاپسندیوں کے خلاف عملی سطح پر آپ خود کیا کررہے ہیں۔ اس مہم کو نہ تو کوئی ایک ادارہ تن تنہا سر کر سکتا ہے نہ ہی محض حکومتوں پر اسے چھوڑا جاسکتا ہے۔ اس میں جتنی ذمہ داری حکومتوں کی ہے اس سے زیادہ ذمہ داری دیگر جماعتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کی بھی ہے۔ -

Nasim Hasan Shah: Legacy & Confession


Nasim Hasan Shah: Legacy & Confession


Ex-Chief justice of Pakistan Justice Nasim Hassan Shah commonly known among his friends as Chemi Shah was known not only due to his controversial decisions but also due to his historic confession regarding Bhutto case. He openly confessed that Bhutto did not get justice. In Molvi Tamezudin Case, Nusrat Bhutto case and Bhutto case he served masters but in 1993 he restored Nawaz government and before his death his historic confession unmasked the real killer. So unlike his father and brother, 54 inches Nasim saved his skin. His father Syed Mohsin Shah was a power player in Unionist Government of the Punjab in 1930s. He was member of 12 members Kashmir Committee which was formed by the British Indian Government and Unionists under the leadership of Mirza nasir u din Mahmud. The committee had to handle historic Kashmir movement of 1931 against Dogra Raj. Newly born Ahrar was behind that movement. His elder brother was a civil servant but during yayhya period he was removed from service along with 302 officers. 
Published in Weekly humshehri Feb 2015
Read the full article by clicking the link



عامر ریاض۔۔۔۔۔
 پنجاب کی یونیسنٹ سیاست کے ایک تھم اور 1930ء کی دہائی میں طاقت کے مراکز سے نزدیک سید محسن شاہ کے فرزند سابق چیف جسٹس آف پاکستان نسیم حسن شاہ 3 فروری 2015ء کو راہی ملک عدم ہوگئے۔ مولوی تمیز الدین کیس، نصرت بھٹو کیس اور بھٹو قتل مقدمہ میں سرکاری خدمات سر انجام دینے کے الزامات کا بھار اُٹھانے والے نسیم حسن شاہ نے مرنے سے پہلے دو ایسے کام کئے جن کی وجہ سے وہ اپنے والد اور بھائی کے برعکس ’’عزت سادات‘‘ بچانے میں کامیاب رہے۔ جب پاکستان بیوروکریسی کے بدنام زمانہ افسر اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت توڑی تو یہ نسیم حسن شاہ ہی تھے جنھوں نے اسے یہ بڑک لگا کر بحال کر دیا تھا کہ ’’ہم نے صدر کو پٹہ ڈال دیا ہے‘‘۔ مگر نسیم حسن شاہ کا ’’اصلی کارنامہ‘‘ان کا اعترف گناہ تھا۔ اپنے اس تاریخ ساز اعتراف گناہ میں انھوں نے یہ اقرار کر لیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف نہیں ملا تھا۔ نسیم حسن شاہ کے اعتراف اور چوہدری افتخار کے انکار نے فوجی آمروں کے اصل چہرے قوم کو دکھا دیے جو کبھی ’’اسلام‘‘ اور کبھی ’’لبرل ازم‘‘کی آڑ میں درحقیقت ہوس اقتدار کی علامت تھے۔ جب بھی کبھی ملک پاکستان میں ججوں، جرنیلوں اوربیوروکریٹوں کے حوالہ سے جمہوریت و آمریت میں کشمکش کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں نسیم حسن شاہ کا ذکر بوجہ ’’اعتراف گناہ‘‘نمایاں ہوگا۔ 15 اپریل 1929ء کو سید محسن شاہ کے گھر پیدا ہونے والے نسیم حسن شاہ کا جسمانی قد تو 54 انچ تھا مگر وہ پورے 26 سال تک جج رہے۔ ان کے والد یونیسنٹ پارٹی کی قائم کردہ اس 12 رکن کشمیر کمیٹی کے ممبر تھے جس کے قائد مرزا بشیر الدین محمود تھے۔ یہ کمیٹی ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف 1931ء میں چلائی جانے والی تحریک کشمیر سے نمٹنے کے لیے سرکاری سر پرستی میں بنائی گئی تھی کہ وہ تحریک نومولود مجلس احرار السلام چلا رہی تھی۔ ان کے بڑے بھائی سول سروس میں تھے جن کی بادشاہی یحییٰ خان دور میں اس وقت ختم کی گئی جب 303 سول افسران کو نکالا گیا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے آخری دنوں یعنی 18 مئی 1977ء کو انہیں سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج بنایا گیا تھا۔ 5 جولائی 1977ء کے بعد وہ ایڈہاک ججی کو پکا کرانے کے بوجھ میں انصاف کے ترازو کا بیلنس قائم رکھنے میں بوجوہ ناکام رہے۔ بھٹو کو پھانسی پر لٹکا نے کے عوض وہ جنرل ضیاالحق سے دو کام کروانا چاہتے تھے مگر وہ محض نوکری پکی کرواسکے اور اپنے بھائی کو بحال کروانے میں ناکام رہے۔ البتہ انہیں ’’لندن یا ترا‘‘ کا تحفہ ضرور ملا مگر ادھیٹرعمر میں مزنگی جج کا ضمیر ملامت کرنے لگا۔ ایک بااثر گھرانے میں پیدا ہونے والے نسیم حسن شاہ کا تعلیمی ریکارڈ شاندار تھا۔ 1949ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرنے والے نسیم حسن شاہ نے برصغیر کے ممتاز ادارے گورنمنٹ کالج لاہور سے سیاسیاست میں ایم اے بھی کیا۔ 1954ء تک وہ فرانس کی پیرس یونیورسٹی سے امتیازی حیثیت میں ڈاکٹریٹ آف لا کی ڈگری لے کر وطن واپس آچکے تھے۔ اپنی اعلیٰ تعلیم اور مثالی ذہانت کو انھوں نے پہلی بار مولوی تمیز الدین کیس میں آزمایا۔ یہ مشہور کیس اسی آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کے خلاف تھا جو 7 سال سے آئین بنانے کی بجائے اکثریتی صوبہ سے نمٹنے میں غلطاں رہی تھی۔ یہ کیس سپیکر اسمبلی مولوی تمیز الدین خان لڑ رہا تھا جو نہ صرف خود لیاقت علی خان کی سازشوں میں حصہ دار رہ چکا تھا بلکہ اس بنگالی سپیکر اسمبلی نے مقبول عام بنگالی رہنما اور متحدہ بنگال کے آخری وزیر اعلیٰ حسین شہید سہروردی کی اسمبلی رکنیت بھی ختم کی تھی۔ سچ ہے کہ اقتدار کی جنگ میں ’’حق‘‘ اور ’’باطل‘‘ ڈھونڈنے والے بے خبری میں ہیرو اور دشمن تراشتے رہتے ہیں مگر نسیم حسن شاہ کو طاقت کی سیاست کا سبق گھر سے ہی مل چکا تھا۔ 1964ء میں نسیم حسن شاہ ویسٹ پاکستان بار کونسل اور 1966ء میں پاکستان بار کونسل کے ممبر بنے تو شریف الدین پیرزادہ،منظور قادر، ایس ایم ظفر جیسے بہت سے ماہرین قانون ایوبی خدمات سر انجام دے چکے تھے۔ نسیم حسن شاہ کو بخوبی معلوم ہوگیا ہوگا کہ ججی حاصل کرنے کے لیے انہیں کیسا بہروپ اپنانا ہوگا۔ ایوبی دور ہی میں انھوں نے یہ راز پالیا اور 11 مارچ 1968ء کو محض 39 سال کی عمر میں وہ ویسٹ پاکستان ہائی کورٹ کے جج بنادیے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں ججوں کی تقریوں اور چیف جسٹس کی مدت کے حوالہ سے جو ترامیم کی تھیں اس پر عدلیہ کے مخصوص گروہ کو بہت سے تحفظات تھے۔ دراصل ہمارے ہاں منتخب حکومت اور اسمبلی کی حاکمیت کا یہ پہلا دور تھا کہ سول ملٹری بیوروکریٹوں اورججوں میں غیر جمہوری بندوبست سے اُنس رکھنے والوں کی معقول تعداد براجمان تھی۔ پاکستان کی آئینی تاریخ لکھنے والے حامد خان ایڈووکیٹ نے بھی اپنی ضخیم کتاب میں بھٹو دور میں عدلیہ کے حوالہ سے کی گئی آئینی ترامیم کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر جو جمہوریت ہی کومتنازعہ سمجھتے تھے انہیں منتخب اسمبلی یا اس کے لیڈر سے بیر توہونا ہی تھا۔ - 
یکم ستمبر 1976ء کو پانچویں آئینی ترمیم کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو نے ججوں کو من مرضیوں سے روکنے کا آہر کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹوں کے چیف جسٹسوں کی مدت ملازمت کا تعین بھی کیا گیا اور ججوں پر لازم کر دیا گیا کہ جب حکومت انہیں ہائی کورٹ سے ترقی دے کر سپریم کورٹ بھیجے گی تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ بلوچستان اور سندھ کے لیے الگ ہائی کورٹوں کا قیام بھی اس شق کا حصّٰہ تھا کہ اس سے قبل دونوں صوبوں کے لیے ایک مشترکہ ہائی کورٹ ہی ہوتا تھا۔
5 جولائی 1977ء کے بعد پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکانے کا بندوبست توجنرل ضیاالحق نے کیا تھا مگر اس میں عدلیہ کو آلہ کار بنایا گیا تھا۔بھٹوکو پھانسی پر چڑھا - 
کر بطور ادارہ عدلیہ متنازعہ بھی ہوگئی اور بدنام بھی۔ جب لاہور ہائی کورٹ نے ستمبر 1977ء کو بھٹو کی ضمانت منظور کرنے کا تاریخی کارنامہ سر انجام دیا تھا تو ضیاالحق نے سیخ پا ہوکر بھٹو کے مقدمہ کو فوجی عدالت میں چلانے کا اعلان کر دیا تھا۔ مگر ضیاالحق کو یہ مشورہ دیا گیا کہ اس طرح فوج بحیثیت ادارہ بدنام ہوگی۔ مئی 1977ء کو نسیم حسن شاہ کی ایڈہاک جج بنایا گیا تھا مگر انہیں ججی پر پکا بھٹو کی پھانسی لگنے کے بعد 4 جون 1979ء کو کیا گیا۔ ضیاالحق ایک تیر سے کئی شکار کرنے میں ماہر تھا اس لیے وہ بھٹو کی پھانسی کو پنجاب کے کھاتے ڈال کر سول ملٹری بیوروکریسی کو بچانا چاہتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھٹو اور پنجاب دونوں بڑے خطرے تھے۔ یوں بھٹو اور پنجاب میں فاصلوں کو بڑھانا اسٹیبلشمنٹ کا بڑا ایجنڈا تھا۔ بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے والے پینل میں سات جج شامل تھے کہ 4 نے پھانسی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ یہ کہا گیا کہ پنجاب کے ججوں نے بھٹو کو پھانسی دی ہے۔ بھٹو کو پھانسی کا فیصلہ تو 6 فروری کو آیا تھا مگر جب 24 مارچ کو بھٹو کیس کے وکیل یحییٰ بختیار نے ریویوپٹیشن جمع کروائی تو اسے خارج کرنے کے حق میں اُنہی سات ججوں نے متفقہ فیصلہ دیا تھا۔ نسیم حسن شاہ نے ججی کو پکا تو کرلیا مگر جس لالچ اور دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا تھا اس کااظہار بالآخر انھوں نے کر ہی ڈالا۔ یہ اعتراف ایک ایسے جج نے کیا جو پھانسی دینے والے پینل کا حصّٰہ تھا۔ بہت سے لوگ تو نسیم (چھیمی) حسن شاہ کو ان کی ظرافت اور جگتوں کی وجہ سے یاد کرتے ہیں تو بہت سے ایسے ہیں بوجوہ ان کی قانون دانی کے اسیر ہیں مگر تاریخ میں انہیں اعتراف گناہ کی وجہ سے ہی یاد رکھا جائے گا۔ عدلیہ کو چاہیے تھا کہ اپنے سابقہ چیف کے اس اعتراف کو بنیاد بناکر اپنی غلطیوں کا اقرار کرلیتی مگر تاحال ایسا نہیں ہوا۔ جب جب بھٹو کے عدالتی قتل کا ذکر آئے گا، جب بھی کوئی تاریخ پاکستان کا وہ سیاہ باب لکھے گا، یقیناًانگلیاں عدالتوں کی طرف اٹھیں گی۔ مگر چھیمی شاہ کے اعتراف کے بعد اصل مجرموں کے چہروں سے نقاب اُلٹ چکے ہیں کہ عدالتوں کو من مرضی سے استعمال کرنے والے بھی کٹہرے میں ہیں۔ جیسے مشرقی پاکستان کے قتل سے جنرل یحییٰ خان بچ نہیں سکتا ویسے ہی جنرل ضیاالحق بھٹو کے قتل سے بچ نہیں سکتا۔ بھٹو قتل کیس کا آخری ملزم بھی ’’رب کی عدالت‘‘ میں پیش ہوچکا ہے کہ یہاں نہ ججی کا م آئے گی نہ جرنیلی البتہ چھیمی شاہ کا یہی اعتراف گناہ اس کی مغفرت کا سبب بن سکتا ہے۔ خدا یہی توفیق روئیداد خان سمیت دسروں کو بھی دے۔ - 

Sunday, February 1, 2015

Basant & rise of extremism: Politics, Culture and Concocted Stories


Basant & Rise of extremism
When politics determined the Culture

In between reality and concocted stories
1.  Anti Basant policy shows our interest in handling extremism
Anti Basant policies are continuation of pervaiz Ellahi and Musharaf era but since 2008 Mians are in Punjab. What is the difference?
2.   In between 2005 and 2008 politics, Media, Courts, fundamentalists and others used anti basant syndrome just to fulfilled their interests
3.   Mians of the Punjab failed to handle the situation
4.   Use of religion was common in colonial period by the State and both Pakistani and Indian ruling elite inherited that  syndrome yet after 67 years neither Pakistan nor India can blame only colonial masters
5.   Concocted story of haqiqat roy linked smartly by the festival in 1901 by fundamentalist Hindus in Lhore and Muslim fundamentalists are using it in these days
6.   No one can favor killing of people in festivals but government did not resolve it in last 7 years and it means that they are against the festival and not the killings.
7.   Why government failed to identify those who used killing thread? Who did firing at roof tops? Where is their security mechanisms? 
Read it and find what we are doing with ourselves




Friday, January 30, 2015

Indian visit of Obama and China: New trends & Old politics


Indian visit of Obama and China

New trends & Old politics

In his recent visit President Obama played smartly and his last advice regarding communal harmony and gender sensitive policies was timely for India yet keeping in view international importance of the Indian visit, China announced an international event in September 2015 of world leaders including Putin too.  Like post Lend and Lease US, China too announced a war against Fascism which looks interesting. No doubt, it is time for new alliances yet in this game choice of allies is of vital importance.  Christian Science Monitor called US Indian Partnership as “awkward dance partners” and in China there are forces that have reservation against Putin too. Change of laws regarding arms deals in Japan is also alarming as China has bordering conflicts with both India and Japan.  United State is supporting entry of India and Japan in big 5 yet everyone knew that it is not its prerogative alone.  Without other 4 players it is neither possible nor practice but Indians have no choice but to relay on promises since 2008. A scattered India, internally (communal harmony and gender) and regionally (border disputes other than China especially Kashmir) cannot stand in front of rising China. Pressures on India are multiple yet its current leadership is not ready to expand its partnership at internal national politics. Modie is relaxing laws for international investments and emphasis is on arms deals which is not good for India and the region at all. It is essential to settle the borders first and in this regard India, Pakistan, US and China can settle Durand Line (est . in 1893) and McMahon Line (est. in 1914) which is in the larger interests of all three countries except US. Obama is the first US President who neutralized Burma Front and if he plays his role in neutralization of conflicting borders among China, India, Pakistan, Afghanistan it will change the future politics in favour of trading zones. Now read the article published in weekly Humshehri 

Link is here









Thursday, January 22, 2015

Bad Signals from London & Destabilization in Pakistan



Bad Signals from London &

Destabilization in Pakistan

Geo-Politics and National politics are interlinked. Resonance of London Plan in recent “Container Crisis” was not a new thing in Pakistan. Same feelings were there in February 1972, when Pakistan had to leave Common Wealth under the leader of Zulfiqar Ali Bhutto. From 2008 Pakistan is again on democratic path and in mid-2013 Pakistan has witnessed the First democratic Transition. Destabilization of this process is neither in the interest of Pakistan nor in the interest of Geo-politics. No doubt increasing role of China in world politics is disturbing for many countries and in Afghanistan all the three countries including Pakistan, China and US are in close contact which is rare. Recent international oil crisis smartly damaged Oil producing economies like Iran, Saudi Arabia, Venezuela and Russia but Non-OIL producing countries like Pakistan have a chance to strengthen its economy. In this regard Pakistan should have a powerful Government and vibrant elected tier. Like 1969-73 current period is also an era of change of international alliances and players. Till 16 December 1971 Government was in few hands in Pakistan and country was under Marshallah from 13 years yet after December 20th, 1971 Bhutto played his part very well unilaterally. But in current circumstances there is an assembly and they are ready to face every challenge too. This is the 3rd political government in Pakistan after ZAB (20 December 1971-5July 1877) and Zardari (2008-2013) and if one make a comparison of first two years of these three political governments with 4 Marshallah governments we can easily understand why political governments always face difficulties and who were behind it internally and externally. From Iraqi drama of 1972 till Container Crisis 2014 story looks same.  Read the article in WEEKLY HUMSHEHRI 


دوسری جنگ عظیم سے قبل برطانیہ سب سے بڑی سپرو پاور تھا تو جنگ کے بعد امریکہ نے یہ تخت حاصل کیا اور اب چین آگے آرہا ہے مگر ہمیں تو ان سب کے ساتھ ساتھ ہی چلنا ہے۔ ایک مضبوط حکومت اور بااختیار اسمبلی کے بغیر ہم اس بین الاقومی کھیل میں استعمال تو ہو سکتے ہیں مگر اپنے ملک و خطہ کے مفادات کے نگران نہیں بن سکتے۔ ڈکٹیٹر تو اتنے ہی طاقتور تھے کہ ایک فون کال پر ’’پالیسی شفٹ ‘‘پر راضی ہوجاتے تھے۔ 1969 سے 1973 کے درمیان دنیا تیزی سے بدل رہی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے یا لٹا معاہدہ کے مطابق انہی سالوں میں امریکہ کو بحراحمر و بحرہند کی سمندری تجارت کا تاج، برطانیہ سے منتقل ہونا تھا۔ ہمارے ہاں تو کوئی اسمبلی تھی ہی نہیں۔ اختیار چندلوگوں کے ہاتھ میں تھا۔ جنھیں رام کرنا آسان بھی تھا۔ بین الاقوامی و خطہ کے سیاسی منظر نامہ سے لاتعلق ہمارے پالیسی ساز اپنا رانجھا راضی کرنے میں رجھے رہے۔ ایسے نازک وقت میں 25 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن بھی شروع کردیا۔ 16دسمبر 1971 کے بعد بھی اس سے سبق نہ سیکھا گیا۔ - 

1971 میں بنگلہ دیش بنانے میں ہماری اپنی کن غلط پالیسیوں کا ہاتھ تھا اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وطن عزیز 13 سالوں سے آمریت تلے پس رہا تھا۔ 16دسمبر کے بعد بھٹو دامے سخنے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے میں جتے ہوئے تھے۔ تعلیم و صنعتوں، بینکوں وغیرہ کو قومیانے کا فیصلہ معاشی کی بجائے سیاسی تھا۔ زیرک بھٹو ایک طرف بھارتی قید میں موجود 93 ہزار پاکستانیوں کو چھڑانے کے لیے بھارت سے مذکرات کو ممکن بنانے میں جتےُ ہوئے تھے تو دوسری طرف نیشنل عوامی پارٹی (ولی) اور دیگر پارٹیوں سے جمہوری بندوبست کے لیے مذکرات کررہے تھے۔ مذاکرات کامیاب بھی ہوگئے اورنیپ کی صوبائی حکومتیں بھی بن گئیں، سب آئین پر بھی متفق ہوگئے۔ مگر عین وقت پر خفیہ اداروں کے چند افسروں کی طرف سے ’’عراقی ڈرامہ‘‘ سامنے لاکھڑا کر دیا گیا۔ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے بانیوں میں سے ایک، تربت کے رحیم ظفر، تو یہ اقرار کر چکے کہ چند بلوچ رہنماؤں کے عراق کے ساتھ تعلقات تھے اور عراقی حکومت کے ساحلی علاقوں میں ایران مخالفت کے حوالہ سے کچھ بلوچوں کو تربیت بھی دی جارہی تھی۔ خود بزنجو صاحب اپنی سوانح میں یہ لکھ چکے کہ بلوچستان میں نیپ کی حکومت بننے سے دوہفتے قبل بلوچستان اور کراچی میں ایران مخالف مظاہرے ہوئے اور چائے خانوں میں لگی شاہ ایران کی تصاویر پھاڑ یا جلا دیا گیا تھا۔ جس میں نیپ اور بی ایس او کے لوگ ملوث تھے۔ - 

بین الاقوامی کھیل جس طرح 1969 سے 1972 میں چل رہے تھے ویسے ہی آج بھی جاری و ساری ہیں۔ طاقتور ممالک کی ایجنسیا ں بھی بہت بااختیار ہوتی ہیں اور سفارت خانے بھی۔ کبھی یہ ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو کبھی یہ دو مختلف راستوں سے ایک ہی نتیجہ کی طرف گامزن۔ ان کے لیے سب سے بہتر صورتحال ان ممالک میں ہوتی ہے جہاں فیصلے کرنے کا اختیار چند ہاتھوں میں ہی ہو۔ اپریل سے دسمبر تک چلنے والے منصوبہ کے ڈانڈے بھی لندن سے ملائے گئے۔ جو حکومت ایسے منصوبوں سے بچ نکلتی ہے اسے کمزور تو نہیں کہا جاسکتا۔ اب سوال تو یہی ہے کہ آخر ہمارے ہاں ہر مارشل لاء کو اپنے ابتدائی سالوں میں بین الاقوامی حمائیت ایسے ہی تو نہیں مل جاتی تھی۔ - 

Sunday, January 18, 2015

Paradox of MQM


Paradox of MQM

The party is in crisis from last few years. Its latest worry is hanging of workers. According to media reports Mr Sulat Miirz’s mercy appeal is rejected by the President of Pakistan Mamnoon Hussein. Mirza was charged in the killing of chairman Karachi Electric Supply.

In recent past its leader is facing two cases in London. The leader, few days back, himself criticized his hand-picked Rabita committee member openly.  The party has left the word Mohajar and became Mutihida but whenever party face crisis it use muhajir again. It is a paradox for the party.  
In his autobiography Altaf Hussein admitted that he had made APMSO in reaction and in 1980s APMSO gave birth to Muhajir Qomi Movement. Now it is called herself Mutihida Qomi Movement. 


فی الحال تو اس جماعت کے کارکن صولت مرزا کی رحم کی اپیل صدرمملکت ممنون حسین مسترد کر چکے ہیں۔ صولت مرزا کو کراچی الیکٹرک سپلائی کے چیئرمین کے قتل پر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ - 

یہ واحد جماعت ہے کہ جس کے قائد نے چند روز قبل اپنی ہی جماعت کی رابطہ کمیٹی کے اراکین پر کھلے عام الزامات لگائے تھے اور انھیں کیا کچھ نہیں کہا تھا۔ الطاف حسین کے اس خطاب کو ’’اعتراف گناہ‘‘ قرار دینا غلط نہ ہوگا تو پھر گلہ ذوالفقار علی مرزا، بلاول بھٹو اور قائم علی شاہ سے کیوں؟ جو الفاظ الطاف بھائی نے رابطہ کمیٹی کے اراکین کے لیے استعمال کیے اس کے مقابلہ میں تو بلاول بھٹو نے کچھ زیادہ نہ کہا تھا مگر کسی ایک رکن سے نہ تو لوٹا ہوا مال برآمد کروایا گیا نہ اسے مثال عبرت بنایا گیا۔ جونہی پی ٹی آئی کی ہڑتال والا دن ٹل گیا تو وہی رابطہ کمیٹی بحال ہو گئی۔ آخر اس جماعت کے اندر کیا پک رہا ہے؟ -


Kharals, British loyalists, Sikh-Muslim conflict and the misleading writings

  Kharals, British loyalists, Sikh-Muslim conflict and the misleading  writings 169th Anniversary of Ahmad Khan Kharal  Aamir Riaz (Writer -...